ایرانی قونصل جنرل سے پاکستان کونسل فار فارن ریلیشنز کے وفد کی ملاقات، خطے کی صورتحال اور پاک ایران تعلقات پر تبادلہ خیال
کراچی: پاکستان کونسل فار فارن ریلیشنز کے ایک وفد نے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر حسن حبیب کی سربراہی میں کراچی میں ایرانی قونصل خانے کا دورہ کیا اور ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادہ سے ملاقات کی۔
وفد میں سیاسیات اور معاشیات کے طلبہ، محققین اور ماہرین شامل تھے۔ ملاقات کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال، مکہ معاہدے، پاک ایران باہمی تعلقات، تجارت، توانائی، سیاحت، ثقافت اور تعلیم سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادہ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی و صہیونی جارحیت اور اس کے مقابلے میں ایران کی دفاعی و جوابی کارروائیوں سے خطے کے تمام ممالک پر یہ واضح ہوچکا ہے کہ مختلف ممالک میں غیرملکی افواج اور فوجی اڈوں کی موجودگی کسی بھی طرح ان کی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کو ترجیح دینا اور ان کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنا اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین حصہ ہے۔
ایرانی قونصل جنرل نے مکہ معاہدے کو خطے کے تین اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی نوعیت کا معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کی سیکیورٹی اور استحکام کے لیے غیرملکی طاقتوں پر عدم اعتماد کی علامت بھی ہے۔ امید ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں امریکی و صہیونی جارحیت روکنے اور گریٹر اسرائیل کے راستے میں رکاوٹ ثابت ہوگا۔
پاک ایران اقتصادی تعلقات کے حوالے سے اکبر عیسیٰ زادہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے ارباب اختیار نے آئندہ برسوں میں باہمی تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے، مؤثر منصوبہ بندی اور نجی شعبے کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل دونوں ممالک کی ترقی اور استحکام کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔
ایرانی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے باہمی مفادات کے تحت تعاون بڑھانے کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے تاکہ برآمدات و درآمدات کے لیے نئے راستے کھل سکیں۔ پاکستان کی بندرگاہوں کا ایران کے سرحدی علاقوں، خصوصاً چابہار کے قریب ہونا دونوں ممالک کے معاشی تعلقات کے فروغ کے لیے ایک مثبت پہلو ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان معاشی میدان میں ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران پاکستان کو توانائی کی مصنوعات برآمد کرسکتا ہے، جبکہ پاکستان سے چاول، گوشت، مکئی اور دیگر زرعی اجناس درآمد کی جاسکتی ہیں۔
اکبر عیسیٰ زادہ نے سیاحت کو بھی پاک ایران تعلقات کے فروغ کا اہم شعبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیارات کے علاوہ میڈیکل اور جنرل ٹورازم کے شعبوں میں بھی ایران پاکستان کے لیے اہم مواقع رکھتا ہے۔
ثقافتی تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافت اور فنون کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ کلچرل فیسٹیولز کا انعقاد، فنکاروں کی دونوں ممالک میں ہونے والی ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت، دونوں ممالک کے مشاہیر اور شعرا کو خراج تحسین پیش کرنا، پاکستان کے تعلیمی اداروں میں فارسی زبان کا فروغ اور مشترکہ فلم سازی ایسے اقدامات ہیں جو پاک ایران ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
ایرانی قونصل جنرل نے تعلیم و تربیت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارکس کے درمیان اشتراک، مشترکہ کورسز اور تربیتی سیشنز، تجربات کا تبادلہ، ماہرین سے استفادہ اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے کمپنیوں کا قیام انفارمیشن ٹیکنالوجی اور معاشی پیداوار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای ہمیشہ ملک کی تعمیر و ترقی میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لانے کی تلقین کرتے رہے۔ ان کی سیرت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نوجوانوں کو قوم کی ترقی اور پیشرفت کا اہم ترین ذریعہ سمجھتے تھے۔
ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی پاک ایران تعلقات، خطے کی بدلتی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تعلیمی، ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔