موبائل فون کے تنازع پر نوجوان کا چٹان سے چھلانگ لگانے کا واقعہ، والدین بھی جان کی بازی ہار گئے
چھترپتی سمبھاجی نگر، بھارت: موبائل فون کے مطالبے پر والدین سے مبینہ طور پر جھگڑے کے بعد 19 سالہ نوجوان نے چٹان سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی، اسے بچانے کی کوشش میں اس کے والدین بھی جان کی بازی ہار گئے۔
رپورٹ کے مطابق 19 سالہ کنال چندگڈے نے جمعہ کے روز مہاراشٹرا کے چھترپتی سمبھاجی نگر میں واقع کھاوڈیا ہل پر چڑھ کر چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔ موبائل فون کے معاملے پر والدین سے بحث کے بعد نوجوان پہاڑی پر پہنچا تھا۔
والدین مرلی دھر چندگڈے، عمر 48 سال، اور سنگیتا چندگڈے بھی اسے سمجھانے کے لیے موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس، مقامی افراد اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں بھی وہاں پہنچیں اور نوجوان کو بچانے کے لیے تقریباً تین گھنٹے تک حفاظتی جال لگانے سمیت مختلف اقدامات کرتی رہیں۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک بجے کنال نے چٹان سے چھلانگ لگا دی۔ اسے بچانے کی کوشش میں والد مرلی دھر بھی اس کے پیچھے گر گئے جبکہ والدہ سنگیتا نے بھی بیٹے کو بچانے کی کوشش کی، تاہم تینوں شدید حادثے کا شکار ہو کر موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔
واقعے نے مقامی کمیونٹی کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے نے خاندانی تنازعات اور نوجوانوں میں ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے بروقت مدد اور معاونت کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔