بھارتی پروپیگنڈا ڈاکومنٹری حقائق مسخ کرنے کی ناکام کوشش ہے، آئی ایس پی آر
راولپنڈی: (17 اگست 2026) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھارتی پروپیگنڈا ڈاکومنٹری پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ معرکہ حق کو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھارت تلخ حقیقت تسلیم کرنے سے گریزاں ہے، جبکہ ناکام فوجی مہم جوئی میں شکست تسلیم کرنے کے بجائے تاریخ کو مسخ کرنے اور اسے من پسند رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی کانٹینٹ کریئیٹرز کی جانب سے نام نہاد آپریشن سندور پر بنائی گئی ڈاکومنٹری انتہائی ڈرامائی اور حقائق کے منافی ہے۔ دستاویزی فلم میں بھارت کی سینئر سیاسی و عسکری قیادت کو شامل کرکے مسلمہ حقائق تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق منتخب انٹرویوز، جذباتی بیانیے اور بالی ووڈ طرز کی عکس بندی کے ذریعے آپریشنل نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ڈاکومنٹری میں موجود بنیادی تضادات بھارت کی جانب سے اپنے عوام کے لیے ایک قابلِ قبول بیانیہ تشکیل دینے کی سست اور تاخیر زدہ کوشش کو بے نقاب کرتے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ 16 اپریل 2025 کے آرمی چیف کے خطاب اور 22 اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کو جوڑ کر ایک من گھڑت سازش تیار کی گئی۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ پہلگام واقعے کے تین مبینہ ملزمان کو 28 جولائی 2025 کو ہلاک کیا گیا، جو نام نہاد آپریشن سندور کے 82 دن بعد کی تاریخ ہے۔ اگر یہ ملزمان 28 جولائی کو مارے گئے تو بھارت کو وضاحت کرنا ہوگی کہ 7 مئی 2025 کو اس نے کسے سزا دینے کا دعویٰ کیا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت کا ’’100 فیصد مشن کامیابی‘‘ کا دعویٰ زمینی حقائق اور آپریشنل ریکارڈ سے مکمل طور پر متصادم ہے۔ معرکہ حق کے دوران پاک فوج نے بھارتی جارحیت کو ناکام بناتے ہوئے 8 بھارتی فوجی طیارے مار گرائے، جبکہ پاکستان نے جوابی کارروائی میں آپریشن بنیانِ مرصوص کے تحت 26 بھارتی عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا کہ آپریشن بنیانِ مرصوص کے دوران فتح گائیڈڈ راکٹس، پاک فضائیہ کے ہتھیاروں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے لوئٹرنگ ڈرونز اور درست نشانہ باز توپ خانے کا استعمال کیا گیا۔ نشانہ بنائے گئے اہداف میں پاکستانی شہریوں پر حملوں اور دہشت گردی کو فروغ دینے والی عسکری تنصیبات شامل تھیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے پاکستانی میزائلوں، ڈرونز اور فضائی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اپنے ایئر ڈیفنس کے فعال ہونے کا اعتراف خود بھارتی غلبے کے دعوے کی نفی کرتا ہے۔ بھارتی اعترافات پاکستان کی نام نہاد ’’حتمی شکست‘‘ کے دعوے سے واضح طور پر متصادم ہیں۔
ترجمان کے مطابق خود بھارتی ڈاکومنٹری اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جنگ کا اختتام دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطے اور باہمی طور پر طے شدہ جنگ بندی کے ذریعے ہوا۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ اعتراف آپریشن سندور کو یکطرفہ بھارتی فوجی فتح قرار دینے کے دعوے کو باطل کرتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق امریکا کی سہولت کاری سے ہونے والی جنگ بندی کو کسی صورت غیر مشروط بھارتی فتح قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایک جانب بھارتی بیانیے میں سرپرائز اور گہرے حملوں کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ دوسری جانب محدود جنگ اور پاکستان کو ’’ایگزٹ ونڈو‘‘ دینے کی بات کی گئی، جو بھارتی مؤقف کے واضح تضادات ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ متضاد دعوے ثابت کرتے ہیں کہ مذکورہ ویڈیو کسی معروضی عسکری جائزے کے بجائے محتاط انداز میں تیار کیا گیا ملکی پروپیگنڈا ہے۔ بھارت نے سچائی عوام کے سامنے پیش کرنے کے بجائے اپنی فوجی ناکامی کو کامیابی بنا کر دکھانے کے لیے پروپیگنڈا ویڈیو تیار کی۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ کوئی بھی ڈرامائی منظر کشی تاریخ، طیاروں کی تباہی، فوجی جانی نقصان اور میدانِ جنگ کی شکست کو فتح میں تبدیل نہیں کرسکتی۔ پاکستان کو معرکہ حق کے حوالے سے کسی مصنوعی بیانیے کی ضرورت نہیں، کیونکہ آپریشنل ریکارڈ، میدانِ جنگ کے شواہد، سفارتی پیغامات اور خود بھارتی بیانات عالمی سطح پر حقائق کا حصہ ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے، جبکہ پاک مسلح افواج ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار اور باصلاحیت ہیں۔
آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ مستقبل میں کسی بھی بھارتی عسکری مہم جوئی کا سخت، حتمی اور غیر متناسب جواب دیا جائے گا، اور آئندہ کسی بھی جارحیت کے بعد کوئی بھی ’’سینماٹک جھوٹ‘‘ بھارت کو ہزیمت سے نہیں بچا سکے گا۔
*آئی ایس پی آر*
*راولپنڈی، 17 اگست 2026ء*
معرکہ حق کے ایک سال سے بھی زائد عرصے بعد، بھارت تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ ایک ناکام مہم جوئی میں شکست تسلیم کرنے کے بجائے، بھارت نے تاریخ کو اپنی پسند کے مطابق مسخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصدکے حصول کے لیے، بھارتی تخلیق کاروں نے نام نہاد “آپریشن سندور” کے حوالے سے ایک انتہائی ڈرامائی، پرکشش اور حقائق کے منافی بیانیہ تیار کیا ہے، جسے بھارت کی سینئر سیاسی اور عسکری قیادت پر مشتمل ایک دستاویزی فلم (ڈاکیومنٹری) کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ باریکی اور سنجیدگی کے فقدان کے باعث اس ڈاکیومنٹری کو بیک وقت بھارتی عسکری تاریخ کا المیہ اور مزاح قرار دیا جا سکتا ہے۔ منتخب اور ایڈیٹ شدہ انٹرویوز، جذباتی صداکاری اور بالی ووڈ طرز کی فلمائی عکاسی کا سہارا لے کر طے شدہ حقائق کو مسخ کرنے اور آپریشنل نتائج کو بدلنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ایک امر یہ بھی ہے کہ اس ڈاکیومنٹری کے اپنے اکاؤنٹ میں ہی بنیادی تضادات موجود ہیں، جو واقعات کا ایک ایسا vision تیار کرنے کی تاخیر سے کی جانے والی کوشش کو بری طرح بے نقاب کرتے ہیں جو ان کے اپنے عوام کے لیے قابلِ قبول ہو سکے۔
ڈاکیومنٹری 16 اپریل 2025 کو پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف کے خطاب اور 22 اپریل 2025 کے واقعہ پہلگام کے درمیان ایک بظاہر بلاوجہ ربط قائم کرنے کی ناکام کوشش کرتی ہے، اور بنا کسی بنیاد کے ایک من گھڑت سازشی منطق گھڑتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بھارت نے بعد میں یہ دعویٰ کیا کہ پہلگام کے تین مبینہ مجرمان کو نام نہاد آپریشن سندور کے 82 دن بعد، 28 جولائی 2025 کو شناخت کر کے ختم کر دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود یہ ڈاکیومنٹری نام نہاد آپریشن سندور کو پہلگام کے ذمہ داروں کی سزا کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اگر مبینہ مرتکب افراد کو 28 جولائی کو ہلاک کیا گیا تھا، تو بھارت کو وضاحت کرنی چاہیے کہ 7 مئی 2025 کو اس نے کس کو سزا دینے کا دعویٰ کیا تھا؟
“100 فیصد مشن کی کامیابی” کا دعویٰ بھی آپریشنل ریکارڈ سے بالکل الگ تھلگ ہے۔ معرکہ حق کے دوران پاک افواج نے بھارتی جارحیت کو کامیابی سے ناکام بنایا اور 8 فوجی طیارے مار گرائے۔ پاکستان نے بعد ازاں آپریشن “بنیانٌ مَّرْصُوْصٌ” شروع کیا، جس میں فتح میزائل، پاک فضائیہ کے نشانہ ساز گولہ بارود، طویل فاصلے تک مار کرنے والے لوئٹرنگ میونیشنز (ڈراؤنز) اور پریسیژن آرٹلری کا استعمال کرتے ہوئے 26 عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں وہ تنصیبات بھی شامل تھیں جو پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتی تھیں اور وہ ادارے جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث تھے۔
یہ ڈاکیومنٹری خود بھارتی برتری کے واضح دعوے کو مزید کمزور کرتی ہے۔ بھارتی عسکری قیادت نے پاکستان کی جانب سے وسیع پیمانے پر میزائل، ڈرون اور فضائی سرگرمیوں، لائن آف کنٹرول کے ساتھ مسلسل جھڑپوں اور بھارتی ایئر ڈیفنس سسٹمز کے فعال ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ اس نوعیت کے اعتراف اور پاکستان کو فیصلہ کن طور پر شکست دینے کے بار بار کیے جانے والے ڈرامائی دعوؤں کے ساتھ ملانا یا تسلیم کرنا بلاشبہ غیر منطقی اور مُضحِکہ خیز ہے۔
جنگ بندی کے بارے میں ڈاکیومنٹری میں دیا گیا بیانیہ خود ایک انکشاف سے کم نہیں ۔ ڈاکومینٹری اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جنگ کا خاتمہ دونوں ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطے اور باہمی اتفاق سے طے پایا۔ صرف یہی بات آپریشن سندور کو بھارت کی یکطرفہ عسکری فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی نفی کرتی ہے۔ امریکہ کی سہولت کاری سے ہونے والی جنگ بندی کو بعد میں غیر مشروط فتح کے ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکیومنٹری تنازع کی شدت کی نوعیت پر بھی تضاد سے بھرپور ہے۔ ڈاکومینٹری میں مسلسل بھارت کی طرف سے حیران کن سرپرائز، درستگی، حملوں کی شدت اور عسکری برتری کا ڈھنڈورا پیٹا گیا، جبکہ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بھارت نے دانستہ طور پر تنازع کو محدود رکھا اور پاکستان کو “Exit Window ” فراہم کیا۔ یہ متضاد دعوے اس ڈاکومینٹری مخصوص عسکری accounts کے بجائے ایک خاص زاویے سے تیار کردہ بیانیہ ثابت کرتے ہیں۔بھارت نے سچائی کو بے نقاب نہیں کیا بلکہ ایک صریح عسکری ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
اس طرح کی ڈرامائی تشکیل کبھی بھی تاریخی ہزیمت کو فتح میں نہیں بدل سکتی، ایسی غیر منطقی اور حقائق سے متصادم کوشش نہ تو طیاروں کے نقصان کو اور نہ ہی عسکری جانی و مالی نقصان کو چھپا سکتی ہے، ایسی کوئی کوشش میدان جنگ کی شکست کو خود ساختہ فتح میں تبدیل نہیں کر سکتی ہے۔
پاکستان کو معرکہ حق میں کامیابی کے ثبوت کیلئے کسی داستان گوئی کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپریشنل ریکارڈ، میدانِ جنگ کے شواہد، سفارتی تبادلے اور بھارت کے اپنے ہی بیانات پاکستان کی شاندار کامیابی کے وہ ثبوت ہیں جنہیں بین الاقوامی برادری وسیع پیمانے پر تسلیم کر چکی ہے۔
پاکستان علاقائی امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ اس کے ساتھ ہی، پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور اہل ہیں۔ کسی بھی مستقبل کی عسکری مہم جوئی کا منہ توڑ، فیصلہ کن اور غیر متناسب جواب دیا جائے گا، جس کے بعد اس طرح کی فلمی طرز کے جھوٹ بھی میدان جنگ کی ہزیمت نہیں چھپا سکیں گے۔
معرکہ حق اور بھارتی پروپیگنڈا ڈاکیومنٹری پر ردعمل):
1. معرکہ حق کو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی بھارت تلخ حقیقت کا سامنا کرنے سے گریزاں ہے۔
2. ناکام مہم جوئی میں شکست تسلیم کرنے کے بجائے، بھارت نے تاریخ کو مسخ کرنے اور اسے من پسند رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔
3. بھارتی کانٹینٹ کریئیٹرز نے نام نہاد ‘آپریشن سندور’ پر مبنی انتہائی ڈرامائی اور حقائق کے منافی ڈاکومنٹری تیار کی ہے۔
4. اس دستاویزی فلم میں بھارت کی سینئر سیاسی اور عسکری قیادت کو شامل کر کے مسلمہ حقائق بدلنے کی کوشش کی گئی ہے۔
5. سنجیدگی اور حقائق کے فقدان کے باعث یہ بھارتی ڈاکومنٹری بیک وقت ایک المیہ بھی ہے اور ایک مذاق بھی۔
6. منتخب انٹرویوز، جذباتی بیانیے اور بالی ووڈ طرز کی عکس بندی کے ذریعے آپریشنل نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔
7. ڈاکومنٹری میں موجود بنیادی تضادات مقامی سطح پر قابلِ قبول بیانیہ گھڑنے کی سست اور تاخیر زدہ کوشش کو بے نقاب کرتے ہیں۔
8. 16 اپریل 2025 کو آرمی چیف کے خطاب اور 22 اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کو جوڑ کر من گھڑت سازش تیار کی گئی ہے۔
9. بھارت کا دعویٰ ہے کہ پہلگام کے 3 مبینہ ملزمان کو 28 جولائی 2025 کو ہلاک کیا گیا، جو نام نہاد آپریشن سندور کے 82 دن بعد کی تاریخ ہے۔
10. اگر ملزمان 28 جولائی کو مارے گئے تو بھارت کو وضاحت کرنی چاہیے کہ 7 مئی 2025 کو اس نے کسے سزا دینے کا دعویٰ کیا؟
11. بھارت کا “100 فیصد مشن کامیابی” کا دعویٰ زمینی حقائق اور آپریشنل ریکارڈ سے مکمل طور پر کٹا ہوا ہے۔
12. معرکہ حق کے دوران پاک فوج نے بھارتی جارحیت کو کامیابی سے ناکام بناتے ہوئے 8 فوجی طیارے مار گرائے تھے۔
13. پاکستان نے جوابی کارروائی میں ‘آپریشن بنیانِ مرصوص’ کے تحت 26 بھارتی عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
14. اس آپریشن میں ‘فتح’ گائیڈڈ راکٹس، پاک فضائیہ کے ہتھیاروں، طویل فاصلے کے لوئٹرنگ ڈرونز اور درست نشانہ باز توپ خانے کا استعمال کیا گیا۔
15. نشانہ بنائے گئے اہداف میں پاکستانی شہریوں پر حملوں اور دہشت گردی کو فروغ دینے والی عسکری تنصیبات شامل تھیں۔
16. ڈاکومنٹری میں بھارتی عسکری قیادت کا پاکستانی میزائلوں، ڈرونز، فضائی کارروائیوں اور اپنے ایئر ڈیفنس کے فعال ہونے کا اعتراف خود ان کے غلبے کے دعوے کی نفی کرتا ہے۔
17. بھارتی اعترافات پاکستان کی نام نہاد ‘حتمی شکست’ کی بار بار کی جانے والی منظر کشی سے واضح طور پر متصادم ہیں۔
18. ڈاکومنٹری تصدیق کرتی ہے کہ جنگ کا خاتمہ دونوں ڈی جی ایم اوز کے رابطے اور متفقہ جنگ بندی کے ذریعے ہوا۔
19. یہ اعتراف آپریشن سندور کو یکطرفہ بھارتی فوجی فتح قرار دینے کے دعوے کو مکمل طور پر باطل کرتا ہے۔
20. امریکا کی سہولت کاری سے ہونے والی جنگ بندی کو کسی صورت غیر مشروط بھارتی فتح کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
21. ایک طرف سرپرائز اور گہرے حملوں کا دعویٰ تو دوسری طرف محدود جنگ اور پاکستان کو ‘ایگزٹ ونڈو’ دینے کی بات، بھارتی بیانیے کے تضادات ہیں۔
22. یہ متضاد دعوے ثابت کرتے ہیں کہ یہ ویڈیو کسی معروضی عسکری جائزے کے بجائے محتاط انداز میں گھڑا گیا ملکی پروپیگنڈا ہے۔
23. بھارت نے سچائی عام نہیں کی بلکہ اپنی فوجی حماقت کو کامیابی بنا کر پیش کرنے کے لیے پروپیگنڈا ویڈیو جوڑ دی ہے۔
24. کوئی بھی ڈرامائی منظر کشی تاریخ، طیاروں کی تباہی، فوجی جانی نقصان اور میدانِ جنگ کی شکست کو فتح میں نہیں بدل سکتی۔
25. پاکستان کو معرکہ حق کے حوالے سے کوئی مصنوعی بیانیہ گھڑنے کی قطعی ضرورت نہیں۔
26. آپریشنل ریکارڈ، میدانِ جنگ کے ثبوت، سفارتی پیغامات اور خود بھارتی بیانات عالمی برادری میں تسلیم شدہ حقیقت ہیں۔
27. پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے۔
28. پاک مسلح افواج ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار اور باصلاحیت ہیں۔
29. مستقبل میں کسی بھی بھارتی عسکری مہم جوئی کا سخت، حتمی اور غیر متناسب جواب دیا جائے گا۔
30. آئندہ کسی بھی جارحیت کے بعد کوئی بھی ‘سینماٹک جھوٹ’ بھارت کو ہزیمت سے نہیں بچا سکے گا۔