اٹک پولیس کے خلاف جعلی ایف آئی آر اور جعلی ایس پی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل، پولیس کی وضاحت، شہریوں کو غیر مصدقہ پوسٹس پھیلانے سے گریز کی اپیل اٹک (ڈاکٹر محمد سعید خٹک سے) سوشل میڈیا پر اٹک پولیس کے حوالے سے جعلی ایف آئی آر اور ایک جعلی ایس پی کی تصویر وائرل ہونے کے بعد اٹک پولیس کو وضاحت جاری کرنا پڑ گئی۔ پولیس ترجمان کے مطابق سوشل میڈیا پر تھانہ اٹک سٹی میں ایس پی اور دو پولیس کانسٹیبلوں کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات پر مبنی ایف آئی آر نمبر 248/26 شیئر کی جا رہی ہے، جو مکمل طور پر جعلی اور بے بنیاد ہے۔ یہ پوسٹ ایسے وقت میں وائرل ہوئی ہے جب اٹک میں پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پیش نظر پنجاب پولیس کے تقریباً 35 ہزار اہلکار اور ڈھائی سو اعلیٰ پولیس افسران تعینات ہیں، جن میں 10 ڈی آئی جیز، 26 اضلاع کے ڈی پی اوز اور دیگر افسران شامل ہیں۔ وائرل پوسٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسے دیکھنے والوں کی تعداد پانچ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اٹک پولیس کے ترجمان کی جانب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو مرتبہ وضاحت جاری کی گئی ہے۔ ترجمان اٹک پولیس نے واضح کیا ہے کہ تھانہ اٹک سٹی میں ایف آئی آر نمبر 248/26 کا کوئی وجود نہیں اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ تھانے میں درج مقدمات کی تعداد 700 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایف آئی آر کا نمونہ بھی پنجاب پولیس کے مستند طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پولیس ترجمان کے مطابق وائرل پوسٹ میں استعمال کی گئی تصویر دراصل جولائی 2025 میں بھکر سے گرفتار ہونے والے ایک ایسے شخص کی ہے جس کا پنجاب پولیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مذکورہ شخص خود کو جعلی ایس پی ظاہر کرکے سادہ لوح شہریوں کو لوٹتا تھا اور مقدمہ درج ہونے کے بعد اشتہاری ہوگیا تھا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس کی ایف آئی آر ایک مخصوص سرکاری طریقہ کار اور نمونے کے تحت تیار کی جاتی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل جعلی ایف آئی آر تیار کرنے والے نے اپنی لاعلمی کے باعث ایسا نمونہ بنایا جو پنجاب پولیس کے اصل ریکارڈ سے مختلف ہے۔ اٹک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پرانی تصاویر اور گمراہ کن پوسٹس کی تصدیق کیے بغیر انہیں آگے شیئر نہ کریں اور غیر مصدقہ معلومات پر یقین کرنے سے گریز کریں۔

اٹک پولیس کے خلاف جعلی ایف آئی آر اور جعلی ایس پی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل، پولیس کی وضاحت، شہریوں کو غیر مصدقہ پوسٹس پھیلانے سے گریز کی اپیل

اٹک سوشل میڈیا پر اٹک پولیس کے حوالے سے جعلی ایف آئی آر اور ایک جعلی ایس پی کی تصویر وائرل ہونے کے بعد اٹک پولیس کو وضاحت جاری کرنا پڑ گئی۔ پولیس ترجمان کے مطابق سوشل میڈیا پر تھانہ اٹک سٹی میں ایس پی اور دو پولیس کانسٹیبلوں کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات پر مبنی ایف آئی آر نمبر 248/26 شیئر کی جا رہی ہے، جو مکمل طور پر جعلی اور بے بنیاد ہے۔

یہ پوسٹ ایسے وقت میں وائرل ہوئی ہے جب اٹک میں پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پیش نظر پنجاب پولیس کے تقریباً 35 ہزار اہلکار اور ڈھائی سو اعلیٰ پولیس افسران تعینات ہیں، جن میں 10 ڈی آئی جیز، 26 اضلاع کے ڈی پی اوز اور دیگر افسران شامل ہیں۔

وائرل پوسٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسے دیکھنے والوں کی تعداد پانچ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اٹک پولیس کے ترجمان کی جانب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو مرتبہ وضاحت جاری کی گئی ہے۔

ترجمان اٹک پولیس نے واضح کیا ہے کہ تھانہ اٹک سٹی میں ایف آئی آر نمبر 248/26 کا کوئی وجود نہیں اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ تھانے میں درج مقدمات کی تعداد 700 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایف آئی آر کا نمونہ بھی پنجاب پولیس کے مستند طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتا۔

پولیس ترجمان کے مطابق وائرل پوسٹ میں استعمال کی گئی تصویر دراصل جولائی 2025 میں بھکر سے گرفتار ہونے والے ایک ایسے شخص کی ہے جس کا پنجاب پولیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مذکورہ شخص خود کو جعلی ایس پی ظاہر کرکے سادہ لوح شہریوں کو لوٹتا تھا اور مقدمہ درج ہونے کے بعد اشتہاری ہوگیا تھا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس کی ایف آئی آر ایک مخصوص سرکاری طریقہ کار اور نمونے کے تحت تیار کی جاتی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل جعلی ایف آئی آر تیار کرنے والے نے اپنی لاعلمی کے باعث ایسا نمونہ بنایا جو پنجاب پولیس کے اصل ریکارڈ سے مختلف ہے۔

اٹک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پرانی تصاویر اور گمراہ کن پوسٹس کی تصدیق کیے بغیر انہیں آگے شیئر نہ کریں اور غیر مصدقہ معلومات پر یقین کرنے سے گریز کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں