سعودی عرب میں باجوڑ کے تین پاکستانی نوجوان قتل، معمولی تنازع تین جانیں لے گیا
ریاض: سعودی عرب میں باجوڑ کے علاقے سلارزئی سے تعلق رکھنے والے تین پاکستانی نوجوان ایک افسوسناک جھگڑے کے دوران چاقو کے وار سے جاں بحق ہوگئے۔ اہلِ خانہ کے مطابق واقعہ کسی پرانی دشمنی یا قبائلی تنازع کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک معمولی تکرار نے خونریز تصادم کی شکل اختیار کرلی۔
مقتولین کے چچا کے مطابق تینوں نوجوان ریاض میں ایک ہی رہائشی حجرے میں مقیم تھے۔ واقعے سے قبل ایک شخص ان کے حجرے میں بطور مہمان موجود تھا، جس کا دوسرے فریق کے ساتھ مبینہ طور پر لین دین کا تنازع چل رہا تھا۔
اہلِ خانہ کے مطابق جب مذکورہ شخص حجرے سے باہر نکلا تو دوسرے فریق نے اسے روک کر تلخ کلامی اور مبینہ طور پر ہاتھا پائی شروع کردی۔ اس دوران مقتول محمد خان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ شخص ان کا مہمان ہے اور حجرے کے سامنے اس کے ساتھ بدسلوکی نہ کی جائے۔
چچا کے بیان کے مطابق اسی مداخلت کے بعد معاملہ شدت اختیار کرگیا۔ اسی دوران صدام حسین وہاں پہنچا اور اپنے کزن محمد خان کو زخمی حالت میں دیکھ کر جھگڑا ختم کرانے کی کوشش کی، تاہم مبینہ طور پر اس پر چاقو سے حملہ کردیا گیا۔ گردن پر وار کے نتیجے میں صدام حسین جاں بحق ہوگیا۔
بعد ازاں محمد خان کو بھی مبینہ طور پر متعدد چاقو کے وار کرکے قتل کردیا گیا۔ اپنے بھائی کو خون میں لت پت دیکھ کر وہاں پہنچنے والے احمد گل کو بھی مبینہ طور پر سینے پر چاقو کے وار کیے گئے، جس کے نتیجے میں وہ بھی جانبر نہ ہوسکا۔
یوں ایک ہی خاندان کے دو سگے بھائی احمد گل اور محمد خان جبکہ ان کے چچازاد بھائی صدام حسین جان کی بازی ہار گئے۔
پانچ افراد نامزد
اہلِ خانہ کے مطابق واقعے کے مقدمے/کارروائی میں پانچ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے تین افراد کے پاس مبینہ طور پر چھریاں تھیں جبکہ دو افراد نے مقتولین کو پکڑ رکھا تھا۔ اہلِ خانہ کے مطابق واقعے کے بعد نامزد افراد وہاں سے فرار ہوگئے۔
تاہم ان دعوؤں اور واقعے میں ملوث افراد کی ذمہ داری کا حتمی تعین سعودی حکام کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
دونوں فریق ایک ہی گاؤں سے تعلق رکھتے تھے
اہلِ خانہ کے مطابق واقعے کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ دونوں فریقوں کا تعلق باجوڑ کے ایک ہی گاؤں سے تھا اور وہ ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے۔ معمولی نوعیت کا تنازع دیکھتے ہی دیکھتے انتہائی سنگین اور جان لیوا تصادم میں تبدیل ہوگیا۔
مقتول صدام حسین کو سعودی عرب پہنچے ہوئے تقریباً 15 روز ہی ہوئے تھے اور وہ روزگار کی تلاش میں سعودی عرب گیا تھا۔
واقعے کی اطلاع کے بعد سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سمیت مقتولین کے آبائی علاقے باجوڑ میں بھی غم اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ اہلِ خانہ نے حکام سے واقعے کی مکمل تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
نوٹ: خبر میں قتل کے محرکات، نامزد افراد اور واقعے کی تفصیلات اہلِ خانہ کے بیانات کی بنیاد پر شامل کی گئی ہیں۔ واقعے کے حتمی حقائق اور ذمہ داری کا تعین سعودی حکام کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گا۔