اسلام آباد سے 12 سالہ ایرانی بچے کا مبینہ اغوا، ایران منتقلی کا خدشہ

اسلام آباد کے سیکٹر G-11/4 سے 12 سالہ بچے کے مبینہ اغوا کے معاملے نے کئی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بچے کی شناخت سید محمد کے نام سے ہوئی ہے، جو مبینہ طور پر ایرانی شہری ہے اور اسلام آباد میں اپنے ننھیال کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بچے کو منگل کے روز گھر کے باہر سے اغوا کیا گیا، جبکہ اغوا کار مبینہ طور پر گاڑی میں اسے کوئٹہ کی جانب لے گئے، جہاں سے تافتان بارڈر کے ذریعے ایران منتقل کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسلام آباد پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کی مشترکہ ٹیم نے پشاور موڑ کے قریب ایک گیسٹ ہاؤس پر چھاپہ مارا، جہاں مبینہ اغوا کاروں نے قیام کیا تھا، تاہم گیسٹ ہاؤس انتظامیہ کے مطابق مشتبہ افراد صبح ساڑھے 9 بجے چیک آؤٹ کر چکے تھے۔ تفتیشی ٹیم نے گیسٹ ہاؤس سے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ریکارڈ حاصل کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس کیس کے پس منظر میں بچے کی شناخت، ایرانی اور پاکستانی ریکارڈ میں مبینہ تضادات اور خاندان کے افراد کے درمیان قانونی تنازعات بھی شامل ہیں۔ ماضی میں بھی اسی خاندان سے متعلق ایک بچے کے مبینہ اغوا کا مقدمہ ایران میں درج ہونے اور انٹرپول کے ذریعے کارروائی کی کوششوں کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 2021 میں اسلام آباد کے علاقے E-11 میں ایک گھر پر کارروائی کے لیے انٹرپول، اسلام آباد پولیس اور دیگر اداروں کی مبینہ مشترکہ کوشش بھی کی گئی تھی، جبکہ اس معاملے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی تھی۔

تاہم حالیہ واقعے میں بچے کے اغوا، اغوا کاروں کی شناخت، ایرانی خفیہ ادارے کے کسی عہدیدار کے مبینہ کردار اور بچے کو ایران منتقل کرنے کے منصوبے سے متعلق تمام دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اسلام آباد سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والے 12 سالہ بچے کو کوئٹہ یا تافتان بارڈر تک پہنچنے سے پہلے بازیاب کرایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ بچے کی بحفاظت بازیابی اور واقعے کی مکمل تحقیقات اب متعلقہ اداروں کی فوری ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں