پشاور: مولانا فضل الرحمان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، سینیٹر عطاءالرحمن
پشاور میں مفتی محمود مرکز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر مولانا عطاءالرحمن نے کہا کہ 13 تاریخ کو مولانا فضل الرحمان کے آدھے جملے کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف بیانیہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی میں اتنی جرات ہے تو مولانا فضل الرحمان کی پوری ویڈیو چلائی جائے، پورے جملے اور سیاق و سباق کو چھوڑ کر ان پر الزام عائد کیا گیا۔
سینیٹر عطاءالرحمن کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا نے مولانا فضل الرحمان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا، مخالفین جتنی کوشش کرلیں مولانا فضل الرحمان کی شخصیت کو کم نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان مخالفین کے حوصلوں اور دلوں پر حاوی ہوچکے ہیں۔ چارسدہ میں جمعیت علماء اسلام نے مولانا شیخ ادریس کانفرنس کا انعقاد کیا جو کامیاب رہی۔
سینیٹر عطاءالرحمن نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے بہت سے علماء کرام اور کارکنوں نے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ باجوڑ میں جمعیت علماء اسلام کے جلسے میں 83 کارکن شہید ہوئے، جبکہ ہماری جماعت کے سینکڑوں نوجوانوں کے جنازے اٹھائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ہم مملکت، ریاست اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، پھر بھی الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور مولانا فضل الرحمان کو قصوروار ٹھہرایا جا رہا ہے۔
سینیٹر عطاءالرحمن کا کہنا تھا کہ ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ ریاست ہم سے کیا چاہتی ہے۔ پورے جلسے میں سے دو یا تین الفاظ نکال کر غلط بیانیہ بنایا گیا اور مولانا فضل الرحمان کا ایک جملہ صرف اور صرف اپنا مقصد پورا کرنے کے لیے چلایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ملک بھر کے علماء کو جمع کرکے دہشت گردوں کے خلاف فتویٰ جمع کرایا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جماعت کے بیانیے کی مکمل تائید کرتی ہے۔