اسلام آباد: غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 374 چینی شہری گرفتار

اسلام آباد: غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 374 چینی شہری گرفتار

اسلام آباد میں غیر قانونی کال سینٹرز اور مبینہ سائبر جرائم کے خلاف FIA اور NCCIA نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 374 چینی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔

ذرائع کے مطابق FIA نے 258 چینی شہریوں کو سفری اور قیام سے متعلق مطلوبہ دستاویزات پیش نہ کرنے پر فارنرز ایکٹ کے تحت حراست میں لیا، جبکہ NCCIA نے مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کے دوران مزید 116 چینی شہریوں کو گرفتار کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کی بڑی تعداد کو رکھنے کے لیے گلبرگ گرینز میں واقع اسپارکو پلازہ کو عارضی طور پر سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔ چیف کمشنر اسلام آباد کے حکم کے تحت عمارت میں گرفتار افراد کو رکھنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ سب جیل اور قیدیوں کی سکیورٹی کی ذمہ داری FIA کے ڈائریکٹر جنرل کو سونپی گئی ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق غیر ملکی شہری مبینہ طور پر وزٹ ویزوں پر پاکستان آکر نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں غیر قانونی کال سینٹرز چلا رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق چین کے علاوہ ویتنام، انڈونیشیا اور ملائیشیا کے شہریوں کی موجودگی اور مبینہ وابستگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق مبینہ نیٹ ورک کا سراغ ایک شراب برآمدگی کے کیس کی تفتیش کے دوران ملا، جس کے بعد متعلقہ عمارت میں قائم دفاتر اور سرگرمیوں کی نگرانی شروع کی گئی۔ مزید تحقیقات میں مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کا انکشاف ہوا، جس پر کارروائی کی گئی۔

تفتیشی ادارے کال سینٹرز سے برآمد ہونے والے کمپیوٹرز، موبائل فونز، ڈیجیٹل آلات اور مالیاتی ریکارڈ کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مراکز صرف غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں تک محدود تھے یا ان کے ذریعے آن لائن فراڈ اور دیگر سائبر جرائم بھی کیے جا رہے تھے۔

حکام کے مطابق گرفتار افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے اور مبینہ کال سینٹرز کے اصل منتظمین، پاکستان میں سہولت فراہم کرنے والے افراد اور ان کی سرگرمیوں سے متاثر ہونے والے افراد سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے، جبکہ قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ دار افراد کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں