پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا مسلم لیگ ن سے رابطہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے، جبکہ آزاد کشمیر انتخابات کے بعد اتحادی جماعتوں کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے مستقبل کی حکمت عملی کے لیے بائیکاٹ، انتخابات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے اور قومی اسمبلی میں احتجاج سمیت مختلف آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے۔
نیوز ون کے پروگرام ’’ڈیبیٹ ود علی فرقان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر ن لیگ کی حکومت سے مزید بات چیت کی گنجائش باقی نہیں رہی، اب پیپلز پارٹی اپنی مستقبل کی حکمت عملی کا فیصلہ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے سامنے بائیکاٹ، آزاد کشمیر انتخابات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے اور قومی اسمبلی میں احتجاج سمیت مختلف آپشنز موجود ہیں۔
ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ ہمارے کارکنوں کی شہادت ہوئی، ایسے میں پیپلز پارٹی کے لیے ن لیگ کے ساتھ تعاون جاری رکھنا انتہائی مشکل ہے۔
پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما نے دعویٰ کیا کہ ن لیگ کی کمیٹی نے آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی سے متعلق پیپلز پارٹی کے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد چار حلقوں میں دوبارہ پولنگ کرانے پر اتفاق کیا تھا، تاہم کمیٹی کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد دوبارہ رابطہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو حکومت گرانے کے لیے ڈی چوک آنے کی ضرورت نہیں، جس حکومت کے پانچ وفاقی وزراء سسٹم کولیپس کی بات کریں تو پھر ’’گیم اوور‘‘ ہے۔
پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد سے متعلق سوال پر ندیم افضل چن نے کہا کہ سیاست میں کوئی چیز بعید از قیاس نہیں، پیپلز پارٹی حزب اختلاف کے اتحاد کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے مظفرآباد میں اعلانیہ طور پر پی ٹی آئی کی جانب ہاتھ بڑھایا، اگر جمہوری رویہ آگے بڑھتا ہے تو مستقبل میں دونوں جماعتیں ساتھ چل سکتی ہیں۔