خیبرپختونخوا حکومت کا مدارس، اوقاف اور اقلیتی برادری کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان پشاور میں وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان اور صوبائی وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور صاحبزادہ عدنان قادری نے محکمہ اوقاف و مذہبی امور کی کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس کی۔

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت کا مدارس، اوقاف اور اقلیتی برادری کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان

پشاور میں وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان اور صوبائی وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور صاحبزادہ عدنان قادری نے محکمہ اوقاف و مذہبی امور کی کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس کی۔

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ صوبائی محکموں کی کارکردگی عوام کے سامنے لانے کے لیے ہفتہ وار پریس کانفرنسز کا سلسلہ جاری ہے۔ متفقہ دینی مدارس بل جلد منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس سے مدارس کے بیشتر مسائل حل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو سب سے بڑا چیلنج امن و امان کی صورتحال کا درپیش ہے، پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب روپے کردیا گیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سی ٹی ڈی اور پولیس کے لیے 31 ارب روپے کے پیکیج کی منظوری دی ہے۔

شفیع جان نے کہا کہ 5 اگست کو بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہوجائیں گے، اس حوالے سے مؤثر اور مضبوط احتجاجی لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا ہے۔ پارٹی قیادت احتجاجی تحریک کا شیڈول جلد جاری کرے گی۔

صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور عدنان قادری نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں 16 ہزار 818 آئمہ کرام کو اعزازیہ دیا جا رہا ہے، جبکہ مدارس کے طلبہ کے لیے ایک ہزار لیپ ٹاپ اور اقلیتی طلبہ کے لیے بھی لیپ ٹاپ اسکیم شروع کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 3 ہزار 513 مدارس کے طلبہ کے لیے رحمت اللعالمین ﷺ اسکالرشپ پروگرام جاری ہے، جبکہ صوبے میں 50 جدید کمپیوٹر لیبارٹریاں اور 210 مدارس میں لائبریریوں کے قیام کے منصوبے جاری ہیں۔

عدنان قادری کے مطابق صوبے بھر میں 752 مساجد، مدارس اور دارالعلوم کی تعمیر و بحالی کے منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن میں 221 منصوبے مکمل اور 531 زیر تکمیل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اوقاف املاک کے بہتر انتظام اور شفافیت کے لیے مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم، الیکٹرانک بلنگ سسٹم اور گرانٹس، اسکالرشپس و ترقیاتی منصوبوں کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل کرلی گئی ہے۔

صوبائی وزیر کے مطابق اقلیتی شعبے کے ترقیاتی بجٹ میں 122 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ اقلیتی برادری کے لیے نئے فلاحی منصوبوں کی مالیت ایک ارب 44 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اقلیتی نوجوانوں کو فنی اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت، طلبہ کو وظائف، بیواؤں، یتیموں اور خصوصی افراد کو مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

عدنان قادری نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی برادری کے 197 مستحق افراد اور خاندانوں کے لیے مجموعی طور پر 16 کروڑ 40 لاکھ روپے مالی امداد کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ اینڈومنٹ فنڈ کی سیڈ منی بڑھا کر 40 کروڑ روپے کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیلاش برادری کے مذہبی، ثقافتی اور تہذیبی ورثے کے تحفظ کے لیے 10 کروڑ روپے مالیت کا کیلاش کلچرل اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر اوقاف کے مطابق اقلیتی عبادت گاہوں کی مرمت و بحالی، قبرستانوں اور شمشان گھاٹوں کے لیے اراضی کی خریداری، سکیورٹی کی بہتری اور سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے منصوبے بھی جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور کمیونٹی ایکسچینج پروگرام کے ذریعے دو برس میں 8 ہزار 600 افراد مستفید ہوں گے، جبکہ مکالمے، کانفرنسز، یوتھ ایکسچینج پروگرام اور مذہبی تہوار بھی منصوبے کا حصہ ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں