اسلام آباد: بچوں کے نان و نفقہ اور ولدیت کے تنازع والا کیس عدالت میں زیر سماعت

اسلام آباد: بچوں کے نان و نفقہ اور ولدیت کے تنازع والا کیس عدالت میں زیر سماعت

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں میاں بیوی کے درمیان بچوں کے نان و نفقہ اور ایک بچے کی ولدیت سے متعلق کیس زیر سماعت ہے، اور اس میں دونوں طرف کے مؤقف اور قانونی نکات پر کافی توجہ دی جا رہی ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق درخواست گزار شوہر نے بتایا کہ اس کی شادی ایک بااثر خاندان کی خاتون سے ہوئی تھی اور شروع کے چند ماہ ان کی ازدواجی زندگی کافی اچھی رہی۔ بعد میں گھریلو معاملات پر دونوں میں اختلافات شروع ہو گئے، جس کے بعد خاتون اپنے والدین کے گھر چلی گئیں۔ شوہر کے مطابق انہی اختلافات کے دوران ان کے ہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی تھی، اور اس کے اخراجات اٹھانے پر اسے کوئی اعتراض نہیں۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ کچھ وقت بعد وہ روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک چلا گیا۔ پاکستان واپس آ کر اسے معلوم ہوا کہ اس کی اہلیہ نے عدالت میں دو بچوں کے نان و نفقہ کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ دوسرا بچہ اس کا نہیں ہے، اس لیے اسے اس کے اخراجات ادا کرنے کا پابند نہیں بنایا جا سکتا۔

شوہر نے عدالت سے درخواست کی کہ دوسرے بچے کی ولدیت جاننے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے تاکہ اصل حقیقت سامنے آ سکے۔ تاہم کارروائی کے دوران یہ درخواست منظور نہیں ہوئی۔ ذرائع کے مطابق عدالت نے عارضی طور پر دونوں بچوں کے نان و نفقہ کی ادائیگی سے متعلق حکم دیا، جس کے خلاف درخواست گزار نے قانونی راستہ اختیار کر رکھا ہے۔

دوسری طرف خاتون کا مؤقف بھی عدالتی ریکارڈ پر موجود ہے، لیکن اس کی تفصیلات عوامی طور پر سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے کیس کے تمام حقائق اور شواہد کا حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ ابھی زیر سماعت ہے اور عدالت نے ولدیت کے تنازع پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ اس لیے مقدمے میں شامل کسی بھی فریق کے دعوؤں کو عدالتی فیصلے سے پہلے حتمی حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔
ماریہ بلوچ کی سوشل میڈیا پوسٹ
‏چالبازی اور مکاری کی انتہا : آج کل اسلام آباد کی ایک عدالت میں زیر سماعت انوکھے کیس کا احوال ایڈووکیٹ حنا رفاقت کی زبانی ۔۔۔۔۔ ایک امیر کبیر خاندان کی شادی کسی ہم پلہ خاندان کے نوجوان سے ہوئی ، چند ماہ بڑے اچھے گزرے ، 3 ماہ بعد نوجوان کو پتہ چلا کہ اسکی بیوی نائٹ پارٹیز کی دلدادہ ہے۔ اور بلاناٖغہ رات دیر تک گھر سے باہر رہنا اسکی عادت ہے تو نوجوان نے اپنی دلہن کو منع کیا لیکن وہ تو باز نہ آئی الٹا اختلافات شروع ہو گئے ، کئی بار بیوی کو پیار سے اور سختی سے سمجھایا مگر جوان عورت نے اپنے چلن نہ بدلے الٹا لڑ جھگڑ کر والدین کے گھر جاکر بیٹھ گئی ، نوجوان نے بہت کوشش کی لیکن لڑکی نہ مانی ، اسکے والدین نے بھی بیٹی کی طرفداری کی ۔ انہی دنوں یہ روٹھے میاں بیوی ایک بیٹے کے والدین بھی بن گئے ، بچے کی پیدائش کے بعد بھی شوہر نے بیوی کو منا کر واپس اپنے گھر لیجانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانی ، اطلاعات کے مطابق بچے کی پیدائش کے چند ہفتوں بعد عورت پھر اپنی رنگین پارٹیز والی دنیا میں گم ہو گئی ۔ والد کا جب دل کرتا جا کر بیٹے کو مل آتا ، اس اثنا میں نوجوان کو کسی کام سے دبئی جانا پڑ گیا وہ کچھ ماہ وہاں رہا اور جب واپس آیا تو اسے پتہ چلا کہ اسکی بیوی نے اس پر دو بچوں کے خرچے کا کیس دائر کررکھا ہے ۔ یہ شخص حیران پریشان ہوا کہ میرا بچہ تو ایک ہے یہ دوسرا بچہ کہاں سے آگیا جبکہ شادی کے بعد 8 ویں مہینے سے لیکر اب تک اسکے بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلقات بھی نہیں رہے ۔ یہ شخص اس دعوے کے خلاف عدالت میں چلا گیا اور بیان کیا کہ ایک بچے کو تو وہ خرچہ دینے کو تیار ہے لیکن دوسرا بچہ نہ اسکا ہے اور نہ وہ اسکا خرچہ دے گا ۔۔ اپنی بات ثابت کرنے کے لیے اس شخص نے ڈی این اے کی درخواست بھی دی لیکن عدالت نے وہ درخواست مسترد کردی ، اور اسے دونوں بچوں کا خرچہ ماہانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ یہ شخص اب بھی اپنا موقف لے کر عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہے اسکا کہنا ہے کہ پرائی بلا میں اپنے گلے کیوں ڈالوں ۔۔ کیس لڑونگا اس پر خرچہ کرونگا مگر دوسرے بچے کا اسے زبردستی باپ بنایا جارہا ہے یہ زیا۔دتی اور سراسر ظلم ہے ۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں