۔ناران میں ٹک ٹاکر سلطان ورک کے خلاف سخت کارروائی، ایف آئی آر درج، تین سال کے لیے داخلہ بند

دریائے کنہار میں ویگو ڈالا ڈبونے کے واقعے پر خیبرپختونخوا محکمہ سیاحت اور کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) نے سخت کارروائی کرتے ہوئے مشہور ٹک ٹاکر سلطان ورک کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی ہے، جبکہ ناران اور کاغان میں ان کے داخلے پر تین سال کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ ناران کے سیاحتی مقام دھم دھمہ میں سلطان ورک اور ان کے ساتھی ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کی غرض سے ویگو گاڑی دریائے کنہار میں لے گئے تھے، تاہم گاڑی تیز پانی کا بہاؤ برداشت نہ کر سکی اور دریا میں بہہ گئی۔ خوش قسمتی سے مقامی رافٹنگ ایکسپرٹس اور ریسکیو اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گاڑی میں سوار تمام افراد کو بحفاظت بچا لیا، تاہم گاڑی مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئی۔
اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ویوز اور شہرت کی خاطر خطرناک اسٹنٹس کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ چند لمحوں کی وائرل شہرت کے لیے اپنی اور دوسروں کی جان خطرے میں ڈالنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ سیاحتی مقامات کی ساکھ اور عوامی تحفظ کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
محکمہ سیاحت اور کے ڈی اے نے سیاحوں کو خبردار کیا ہے کہ قدرتی مقامات پر کسی بھی قسم کے خطرناک اسٹنٹس یا غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں سے گریز کریں، بصورت دیگر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ٹک ٹاک کا جنون: ناران میں مشہور ٹک ٹاکر سلطان ورک 777 کی گاڑی دریائے کنہار میں جا گری، پانچوں نوجوان محفوظ
ناران کے سیاحتی مقام دھم دھمہ میں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کی کوشش اس وقت خطرناک ثابت ہوئی جب مشہور ٹک ٹاکر سلطان ورک 777 کی ویگو گاڑی دریائے کنہار میں جا گری۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق گاڑی میں سوار پانچوں نوجوانوں کو بروقت کارروائی کے ذریعے بحفاظت نکال لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ دریائے کنہار کے کنارے ویڈیو بنانے کے دوران پیش آیا، جس کے باعث وہاں موجود سیاحوں میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر شہرت اور ویوز کی دوڑ میں خطرناک اسٹنٹس اور غیر ذمہ دارانہ حرکات نہ صرف اپنی جان بلکہ دوسروں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
کوئی حادثہ نہیں ہوا، چند ٹک ٹاکرز نے غیر ذمہ دارانہ حرکت کی اور خود ایسے پھنسے کہ جان جاتے جاتے بچی۔ ان کی اس حرکت نے تفریح کے لیے آئے ہوئے بے شمار لوگوں کو بلاوجہ خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔
اللہ کا شکر ادا کرنے اور اس واقعے سے سبق سیکھنے کے بجائے اب غالباً اسی فوٹیج کو مزید ریٹنگ اور ویوز کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
صرف چند لمحوں کی شہرت کے لیے شور شرابا، چھچھورے انداز اور غیر سنجیدہ حرکات نہ صرف معاشرتی اقدار کو متاثر کرتی ہیں بلکہ خصوصاً نئی نسل پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ آج ہر طرف سنجیدہ اور بامقصد مواد کے بجائے “ٹک ٹاکرستان” کا کلچر فروغ پاتا دکھائی دیتا ہے۔
یہ خبر زیادہ روانی اور صحافتی انداز میں یوں لکھی جا سکتی ہے:
ناران: ٹک ٹاک بنانے کا شوق نوجوانوں کو مہنگا پڑ گیا
ناران کے سیاحتی مقام دھم دھمہ میں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کی کوشش نوجوانوں کو مہنگی پڑ گئی۔
کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے حکام کے مطابق نوجوان ویڈیو بنانے کی غرض سے اپنی گاڑی دریائے کنہار میں اتار لائے، تاہم گاڑی تیز پانی کا بہاؤ برداشت نہ کر سکی اور بہہ گئی۔
واقعے کے دوران گاڑی میں سوار تمام افراد کو مقامی رافٹنگ ایکسپرٹس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بحفاظت بچا لیا، جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
حکام نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا کے لیے خطرناک اسٹنٹس یا ویڈیوز بنانے سے گریز کریں اور اپنی جان و مال کو غیر ضروری خطرات سے محفوظ رکھیں۔اگر یہ خبر نیوز بلیٹن یا سوشل میڈیا پوسٹ کے لیے ہے تو اسے مزید مختصر اور زیادہ مؤثر انداز میں بھی ڈھالا جا سکتا ہے۔