ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کے اکاؤنٹس سے رقوم کی کٹوتی پر شکایات میں اضافہ

ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کے اکاؤنٹس سے رقوم کی کٹوتی پر شکایات میں اضافہ

اسلام آباد: ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کے بینک اکاؤنٹس سے رقوم کی کٹوتی اور مبینہ ہراسانی کے حوالے سے شکایات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ دنوں قطر میں مقیم پاکستانی شہری ارسلان آدم کے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکالے جانے کے واقعے کے بعد متعدد افراد نے بھی اپنے تجربات سوشل میڈیا پر شیئر کیے ہیں۔

ٹیکس دہندہ نشید الرحیم کا دعویٰ ہے کہ ایف بی آر نے ان کے بینک اکاؤنٹ سے ایسی رقم کاٹ لی جو بیرون ملک سے ترسیلاتِ زر کی صورت میں پاکستان بھیجی گئی تھی۔ اسی طرح عامر نواز ڈوگر کے مطابق ان کے ایک امریکی شہری عزیز کے بینک اکاؤنٹ سے تقریباً 16 لاکھ روپے نکال لیے گئے۔

سجاد مصطفیٰ باجوہ نے بھی ایک ایسے شخص کا واقعہ بیان کیا جس کے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکالی گئی اور مبینہ طور پر آج تک واپس نہیں کی گئی۔ دوسری جانب سہیم خضر کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی کارروائیوں کے خدشات کے باعث ان کے ایک دوست نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے اپنی سرمایہ کاری نکال لی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ایف بی آر میں انسانی مداخلت کم کی جا رہی ہے اور ٹیکس دہندگان کی ہراسانی کے خاتمے کے لیے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف بھی ایف بی آر اصلاحات کے حوالے سے باقاعدگی سے اجلاسوں کی صدارت کرتے رہے ہیں، جبکہ چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے خلاف سخت کارروائیوں کے دعوے بھی کیے جاتے رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق مالی سال کے اختتام پر ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی کوششوں کے دوران بعض اوقات ایسے اقدامات سامنے آتے ہیں جن پر ٹیکس دہندگان اعتراض کرتے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر کسی ٹیکس دہندہ کے بینک اکاؤنٹ سے ٹیکس یا کسی واجب الادا رقم کی مد میں کٹوتی کی جاتی ہے تو اس کی مکمل قانونی اور انتظامی وضاحت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور غیر ضروری تنازعات سے بچا جا سکے۔نوٹ: چونکہ یہ الزامات اور سوشل میڈیا پر کیے گئے دعوے ہیں، صحافتی اصولوں کے مطابق خبر میں ایف بی آر یا متعلقہ حکام کا مؤقف شامل کرنا ضروری ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں