نامور ناول نگار اور ادیبہ سلطانہ مہر کا برطانیہ میں انتقال

مرگ نامہ

نامور ناول نگار اور ادیبہ سلطانہ مہر کا برطانیہ میں انتقال

پاکستان اور انڈیا کے ادبی حلقوں کے لئے یہ خبر بڑے افسوس اور صدمے کی ہے کہ ملک کی نامور ادیبہ، عالمی شہرت یافتہ ناول نگار، افسانہ نگار، ممتاز شاعرہ اور مصنفہ محترمہ سلطانہ مہر برمنگھم، برطانیہ میں انتقال کر گئیں۔ _إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ_

اللہ تعالیٰ سلطانہ مہر کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ ان کے انتقال کی اطلاع ابھی ابھی برطانیہ سے ان کے شوہر، پاکستان کے ممتاز ادیب، ناول نگار و شاعر جناب جاوید اختر چودھری نے دی ہے۔

مرحومہ کی عمر 88 برس تھی۔ وہ 6 اپریل 1938ء کو بمبئی میں ایک میمن گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ پسماندگان میں شوہر جاوید اختر چودھری، تین بیٹے ڈاکٹر سہیل سعید، وقار سعید اور خرم چودھری اور کئی پوتے پوتیاں سوگوار چھوڑے ہیں۔ ان کے دو بیٹے لاس اینجلس، امریکہ میں مقیم رہتے ہیں لیکن والدہ کے اسپتال میں داخلے کی اطلاع پر وہ بھی ان کے پاس پہنچ گے تھے اور انتقال کے وقت وہیں موجود تھے۔ان کے ایک بیٹے ریحان سعید کا امریکہ میں ایک حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔ چودھری صاحب نے بتایا کہ امید ہے قانونی کاروائی کی تکمیل کے بعد آج ہی ان کی تدفین ہو جائے گی۔

سلطانہ مہر پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ ادیبہ، ناول نگار، افسانہ نگار، شاعرہ، صحافی اور انٹرویو نگار تھیں۔ ہمیں ان کے ساتھ روزنامہ جنگ میں ایک ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ وہ 1967ء سے 1980ء تک 13 سال تک روزنامہ جنگ کے صفحہ خواتین کی انچارج کی حیثیت سے وابستہ رہیں۔

انہوں نے پاکستان آنے کے بعد کراچی یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کیا اور روزنامہ انجام اور جنگ میں کام کے علاوہ اپنا ماہنامہ “روپ” بھی دس سال تک کامیابی کے ساتھ چلایا۔ ان کو خواتین میں اردو تذکرہ نویسی میں اولین مقام حاصل ہے۔

سلطانہ مہر کا ادبی سفر تو 1972ء سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ ان کا پہلا مضمون حیدرآباد دکن کے رسالہ “غنچہ” میں 1953ء میں شائع ہوا جس کا عنوان تھا “بچوں کے مستقبل کی تباہی کا ذمہ دار کون؟” جب کہ ان کا پہلا افسانہ 6 ستمبر 1953ء کو روزنامہ “انقلاب” بمبئی میں شائع ہوا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 15 برس تھی۔ ان کا پہلا ناول “داغِ دل” 1972ء میں کراچی سے شائع ہوا اور پھر یہ سفر جاری رہا۔ سالِ رواں یعنی 2000ء تک ان کی اٹھارہ کتابیں شائع ہو چکی تھیں جن میں ناول، افسانوی مجموعے، شعری مجموعہ اور تذکروں کی آٹھ کتب شامل ہیں۔

سلطانہ مہر نے صحافت کی ابتدا 1954ء میں روزنامہ “ہندوستان” سے کی۔ کراچی میں وہ یکم جنوری 1965ء سے روزنامہ “انجام” اور پھر 1967ء سے روزنامہ “جنگ” سے وابستہ رہیں۔ بارہ برس بعد انہوں نے 1980ء سے اپنے ماہنامہ “روپ” کا آغاز کیا جو دس برس تک، ان کے 1990ء میں امریکہ جانے تک، کامیابی سے جاری رہا۔

اردو تذکرہ نگاری کو اس تسلسل کے ساتھ آگے بڑھانے والی وہ پہلی خاتون ہیں جن پر بھوپال، ہندوستان میں پروفیسر آفاق احمد کی زیرِ نگرانی پی ایچ ڈی کی جا رہی ہے۔

ان کا سب سے بڑا کارنامہ برصغیر پاک و ہند کے تمام بڑے بڑے شعراء اور شاعرات کے انٹرویوز اور تذکروں پر مشتمل کتاب “سخنور” اور شاعرات کے تذکرے “گفتنی” ہے۔ ان کی شاعری کا مجموعہ “حرفِ معتبر” کے نام سے شائع ہوا۔ ان کے ناولوں میں “داغِ دل”، “تاجور”، “ایک کرن اجالے کی” اور “جب بسنت رت آئی” شامل ہیں۔

سلطانہ مہر کا خاندانی نام فاطمہ تھا لیکن وہ سلطانہ مہر کے نام سے ادبی افق پر جلوہ گر ہوئیں۔ ان کے والد کا نام حاجی ہاشم کریم دولا تھا جن کا تعلق کاٹھیاواڑ کے شہر ویراول سے تھا۔ والدہ خدیجہ ہاشم کاٹھیاواڑ کے شہر کوڈینار کی رہنے والی تھیں۔ سلطانہ مہر نے گجراتی زبان میں ابتدائی چار جماعتوں تک تعلیم میمن کریم جعفر اسکول، بمبئی میں حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم شادی کے بعد مکمل کی اور کراچی یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کی سند حاصل کی۔

سلطانہ مہر کو بچپن ہی سے اردو ادب سے لگاؤ تھا۔ ان کا پہلا افسانہ اردو روزنامہ انقلاب میں 1953ء میں شائع ہوا جب کہ ان کی تحریریں “تبسم” حیدرآباد، روزنامہ ہندوستان اور “شمع” دہلی کی بھی زینت بنتی رہیں۔ جنوری 1965ء سے وہ “انجام” کراچی سے منسلک ہوئیں اور دو سال بعد روزنامہ جنگ میں آ گئیں۔ جنگ میں ان کا کالم “آج کا شاعر” بے حد مقبول ہوا جسے 1978ء میں انہوں نے “سخنور” کا نام دے کر کتابی شکل میں شائع کیا تو ادبی حلقوں میں اس کتاب کو بے حد پذیرائی ملی۔ اس سے قبل 1973ء میں “آج کی شاعرات” کے نام سے ایک سو تین پاکستانی شاعرات کا تذکرہ انہوں نے لکھا تھا اور خود شائع بھی کیا تھا۔

سلطانہ مہر ایک کہنہ مشق صحافی، معروف شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معروف افسانہ نویس، ناول نگار اور تذکرہ نگار کی حیثیت سے بھی خاصی شہرت رکھتی تھیں۔ ماہنامہ “روپ” کی بحیثیت مدیرِ اعلیٰ 1980ء سے 1990ء تک اپنی علمی و ادبی قابلیتوں کا لوہا منواتی رہیں۔ وہ جہاں بھی رہیں ان کی ادبی سرگرمیوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ وہ پاکستان سے باہر امریکہ جا کر بھی امریکہ کی ادبی تنظیموں اور فورموں پر اپنی نگارشات پیش کرتی رہیں اور مشاعروں میں بھی حصہ لیتی رہیں۔ انہوں نے لاس اینجلس میں “مہر بک فاؤنڈیشن” کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا۔ اس ادارے کے زیرِ اہتمام “سخنور” (حصہ دوم)، “گفتنی” (اول) اور ایک شعری مجموعہ “حرفِ معتبر” شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اردو ادب کی گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں جس کا اعتراف دانشوروں کے علاوہ ناقدین نے بھی کھلے دل سے کیا ہے۔

جناب جاوید اختر چودھری نے “ہم صورت گر کچھ خوابوں کے” کے نام سے ایک کتاب میں ان کے فن و شخصیت کا احاطہ کرنے کے علاوہ ان کے ادبی کاموں اور شاعری کا مکمل جائزہ لیا ہے اور برصغیر پاک و ہند کے تمام بڑے بڑے ادیبوں، ناقدین اور شاعروں کے سلطانہ مہر پر لکھے مضامین کو بھی شامل کیا ہے جن میں شوکت صدیقی، احمد ندیم قاسمی، ابراہیم جلیس، مجتبیٰ حسین، مختار شمیم، بشریٰ رحمٰن، راغب مراد آبادی، رئیس امروہوی، ڈاکٹر محمد علی صدیقی، شان الحق حقی، حمایت علی شاعر، پروفیسر محسن احسان، جمیل جالبی، پروفیسر ممتاز حسین، مشفق خواجہ، شبنم رومانی، سید ضمیر جعفری، آرزو لکھنوی، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ڈاکٹر حنیف فوق، پروفیسر سحر انصاری، ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر گیان چند جین، ڈاکٹر ستیہ پال آنند، آغا بابر، خالد عرفان، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، محمود شام، ظفر عباس، پروفیسر جاذب قریشی، اسد اللہ حسینی، ارشد عثمانی، شکیل عادل زادہ، محمود ہاشمی، جوہر غوری، نقاش کاظمی، مرزا یاسین بیگ، انور خواجہ، تاج سعید، آصف الرحمن طارق، احمد مسعود، تسلیم الٰہی زلفی، ڈاکٹر الٰہی بخش اعوان، محمد انور سکیانی، قاری اطہر سعید، جیلانی بانو، جاوید پاشا، ظفر گورکھ پوری، سید محمد حسن، شیخ خالد شفیع، ڈاکٹر خاور امروہوی، رشیدہ عیاں، شفیق بانو بریلوی، شمس جیلانی، علی عرفان عابدی، عقیل دانش، عرفان مرتضیٰ، ڈاکٹر طاہر تونسوی، عطیہ نیازی، علی کمیل قزلباش، غوثیہ سلطانہ، فرخ صابری، ڈاکٹر فیروز عالم، قیصر تمکین، گلشن کھنہ، ڈاکٹر محمد مظفرالدین فاروقی، مقصود الٰہی شیخ، ناصر خان ناصر، نذیر فتح پوری، نسیمہ قاضی، نسیمہ کلثوم، ڈاکٹر محمد ہارون شاہد، یعقوب نظامی، سید یونس اعجاز، ڈاکٹر محمد انور طرزی، پروفیسر اسلم جمشید پوری، افتخار امام صدیقی، اقبال آرتانی، گوہر تاج، قاری حسن جاوید، مرتضیٰ شریف، منظر عارفی اور یحییٰ ہاشم باوانی شامل ہیں۔

ہمارا ان سے رابطہ 1967ء میں اس وقت ہوا جب ہم روزنامہ جنگ کے ادارتی عملے میں شامل ہوئے۔ وہ اس وقت جنگ کے صفحہ خواتین کی ایڈیٹر تھیں۔ یہ تعلق کئی برس تک جاری رہا۔امریکہ آنے کے بعد بھی ان سے رابطہ رہا وہ امریکہ سے واپس کراچی آتیں تو بھی ملاقات ہوتی1996 میں ہمارا بیٹا اعجاز ایم ایس کرنے لاس اینجلس کی یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا آیا تو ہم نے سلطانہ مہر سے ذکر کیا تو انہوں نے واپس آکر بیٹے سے رابطہ کیا اور اس سے اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا۔ لیکن پھر اچانک رابطہ منقطع ہوا لیکن ہم نے تلاش جاری رکھی اور 2012 میں امریکہ آکر ادبی تنظیموں اور ادیبوں اور شاعروں سے معلوم کرتے رہے اور 2922 میں معلوم ہوا وہ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ہیں اور انہوں نے جاوید اختر چودھری کے ساتھ شادی کرلی ہے۔چودھری صاحب بھی ممتاز ادیب، ناول و افسانہ نگار اور بڑے شاعر ہیں۔ان کے ساتھ ان کی شادی 2003 میں ہوئی۔2024 اور 2025 میں ہم برطانیہ گے تو دونوں بار سلطانہ مہر اور جاوید چودھری سے ان کے گھر جا کر ملاقات کی تو سلطانہ نے “ میرا بھائی آگیا “ کہتے ہوئے استقبال کیا اور ہم نے جنگ کراچی میں ایک ساتھ گزرے وقت کی یادیں تازہ کیں۔اس وقت سلطانہ کافی کمزور اور علیل تھیں۔جاوید صاحب اور ان کے بیٹے خرم ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔انہوں نے سلطانہ مہر کے فن اور شخصیت پر “ ہم صورت گر کچھ خوابوں کے” کتاب لکھ کر سلطانہ کے زندگی بھر کے ادبی کام کو ایک جگہ جمع کردیا ہے۔انہوں نے سلطانہ کی زندگی کے آخری دنوں میں ان کی دیکھ بھال اور علاج معالجے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور خدمت کا حق ادا کیا ہے۔

عارف الحق عارف
18 اگست 2026ء
فالسم (کیلیفورنیا، امریکہ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں