عمران خان کی صحت سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد، حکومت اور پی ٹی آئی کے مختلف مؤقف

عمران خان کی صحت سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد، حکومت اور پی ٹی آئی کے مختلف مؤقف

اسلام آباد: ایڈووکیٹ خالد یوسف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی مصدقہ نقول حاصل کرلی ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیصلے کی نقول اڈیالہ جیل سمیت متعلقہ فورمز پر جمع کرائی جائیں گی، جس کے بعد بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق عمل شروع ہونے کا امکان ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ نقصانات کے ذمہ دار وہی ہوں گے جو عدالتی فیصلے کے خلاف جائیں گے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل کی پولیس، فوج اور اضافی پولیس نفری شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کیا ہے اور ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے کسی بھی ناخوشگوار یا غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے راولپنڈی میں 6 ماہ کے لیے فوج تعینات کرنے کی درخواست کی ہے۔ تاہم فوج کی تعیناتی وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہوگی۔

پی ٹی آئی رہنما عاطف خان نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا ملک میں علاج ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے اور حکومت کو عدالتی حکم پر من و عن عمل درآمد کرنا چاہیے۔

عاطف خان کا کہنا تھا کہ جب نواز شریف بیمار تھے تو بانی پی ٹی آئی نے انہیں ملک سے باہر علاج کرانے کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کیا تو یہ توہینِ عدالت ہوگی۔

ادھر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ جب تک حکومت اور ریاست کی جوڑی قائم ہے، کسی سازش کی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے عدالتی فیصلے پر مٹھائی جلد کھا لی، انہیں مٹھائی کھانے میں تھوڑا انتظار کرنا چاہیے تھا۔

طلال چوہدری نے کہا کہ ریاست سے اپنی مرضی کے کام ڈکٹیٹ کروا کر نہیں کرائے جاسکتے، جبکہ پہلے بھی واضح کیا گیا تھا کہ ملاقات جیل حکام اور عدالت کی اجازت سے ہی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ 26ویں آئینی ترمیم اور پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کرتے تھے، وہ آج انہی عدالتوں کے فیصلے پر فتح کا نشان بنا رہے ہیں۔

لیگی رہنما نے مزید کہا کہ حکومت کو کسی قیدی کو سہولیات دینے پر اعتراض نہیں، تاہم بانی پی ٹی آئی کے دور حکومت میں قیدیوں کے حوالے سے ان کے مؤقف کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔

مارخور کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقلی ایک شدید سیکیورٹی رسک ہے، جس پر سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود محض سیاست کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز پی ٹی آئی سے وابستہ ورکرز کی جانب سے شفاء انٹرنیشنل اسپتال کی مختلف زاویوں سے ویڈیوز بنائی گئیں اور یہ تک تشہیر کی گئی کہ اسپتال کے کتنے دروازے ہیں اور بانی کو کس راستے سے لایا جائے گا۔

موجودہ حالات میں جب پاکستان کو دہشت گردی کے شدید خطرات کا سامنا ہے،یہ غیر ذمہ دارانہ عمل سیکیورٹی پلان کو سرِعام لیک کرنے کے مترادف ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے خارجی اور دیگر بھارتی حمایت یافتہ دشمن عناصر اس حساس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

علاج معالجہ بانی پی ٹی آئی کا بنیادی حق ہے، لیکن ان کی زندگی کی سیکیورٹی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں، لیکن عدالتوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے احکامات دیتے وقت زمینی اور سیکیورٹی حقائق کو لازماً مدنظر رکھیں۔

شفاء اسپتال ایک مصروف عوامی مقام ہے جہاں روزانہ ہزاروں عام مریض آتے ہیں، وہاں ہجوم جمع ہونے سے بانی پی ٹی آئی کی سیکیورٹی شدید خطرے میں پڑ جائے گی اور عام عوام کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔

لہٰذا، عقل اور سیکیورٹی کا تقاضا یہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے یا تو ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ کو جیل کے اندر ہی تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں، یا پھر انہیں کسی ایسے محفوظ سرکاری اسپتال منتقل کیا جائے جہاں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ممکن ہوں۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو داؤ پر لگانا کسی طور مناسب نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں