پیکا ایکٹ کی آڑ میں صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں ختم کی جائیں۔فیصل آباد یو جے دستور کا سیمینار اور احتجاجی مظاہرہ

فیصل آباد(نمائندہ خصوصی)پیکا ایکٹ کی آڑ میں صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں ختم کی جائیں۔ایف یو جے دستور صحافی کالونی اورکارکن صحافیوں کے حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کے معدوم شعبہ جات کے کارکنوں سمیت معذور، بیمار، بے روزگار، بزرگ اور وفات پاجانے والے کارکن صحافیوں

کی بیوہ ویتیم بچوں کیلئے حکومت خصوصی مراعات جاری کرے۔ان خیالات کااظہار فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس دستور سیکرٹریٹ ذیل گھر کچہری بازار میں عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر”آزادی صحافت سیمینار“سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ صدرایف یو جے دستور سید ذکراللہ حسنی کی زیرصدارت سیمینار سے مرکزی نائب صدر پی ایف یو جے دستور میاں محمد سلیم شاہد، صدر سید ذکر اللہ حسنی، رہنما ایف یو جے سجاد حیدر منا، اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل سید نسیم شاہ، جوائنٹ سیکرٹریز میاں عابد حسین، معظم جٹ، سیکرٹری اطلاعات ملک جمیل سراج، بی ڈی ایم محمود احمد مرزا،امتیاز احمد، عمارہ فیاض کاظمی نے خطاب کیاجبکہ نائب صدر محمد اصغر منج، ممبران ایگزیکٹو وبی ڈی ایم دلبر خان خٹک، محمد اعظم سیالوی، محمدخلیل بزمی، سید صداقت علی شاہ، پرویز خان خشخاری، سلمان راجپوت، جاوید اشرف شاہ، علی اکبر وڑائچ، امتیاز بیگ، حاجی تنویر، معظم علی، مظہرعلی، ندیم جٹ، حمزہ خالد غوری، محمد وقاص، خرم شیراز،عبداللہ ملک ودیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پرایف یو جے دستور کے حال ہی میں انتقال کرنے والے مرحوم ممبران عامربھٹی اور حافظ محمد اطہر نسیم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دیگرمرحوم صحافیوں کیلئے بھی فاتحہ خوانی کی گئی۔ میاں سلیم شاہد نے کہا کہ صحافت پھولوں کی سیج نہیں حق کی جدوجہد میں کانٹوں بھرا راستہ ہے۔ صحافیوں نے ہر دور میں قیدوبند برداشت کرکے آزادی صحافت کا علم بلند رکھا۔ مہنگائی اور ظلم وجبر نے صحافت کی آزادی کو قید کررکھا ہے۔ حق گوئی، حقائق سے آگاہی، جرأت مندی، دانائی اور تدبر کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ صدر سید ذکر اللہ حسنی نے عالمی یوم صحافت کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ 1991میں افریقی ملک نمیبیا سے 3مئی کو عالمی یوم آزادی صحافت منانے کا آغاز ہوا جبکہ 1993سے اقوام متحدہ کے تحت ہر سال عالمی یوم آزاد ی صحافت منایا جارہا ہے۔ ایف یو جے دستور نے فیصل آباد کے 80سے زائد صحافیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے جو اتنے لاچار ہیں کہ ان کے گھروں میں فاقے ہیں۔ ایف یو جے دستور اپنے29ممبران سمیت ان مستحق، بیمار، بزرگ، لاچار صحافیوں اور مرحومین کی بیواؤں اور یتیموں کی محدود وسائل کے ساتھ خدمت کررہی ہے۔ ماہانہ راشن اور ادویات تک کسی تشہیر کے بغیرمہیا کی جارہی ہیں۔تاہم یہ حکومتی سطح پر جرنلسٹ ویلفیئر فنڈ سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا 584اخبارات وجرائد شائع کرنے والے شہر صحافت سے چند اخبارات کا نکلنا اور باقی اخبارات کا مالی وسائل اور مقامی صنعتکاروں، تاجروں اور انتظامیہ کی بے اعتنائی سے بند ہونا مقامی صحافیوں کے بے روزگار ہونے کی بڑی وجہ ہے۔انہوں نے کہا ایف یو جے دستورصحافی کالونی کے قیام اور صحافیوں کو حقوق کی فراہمی کیلئے تمام صحافی گروپوں کی مشاورت سے آگے بڑھنے پر یقین رکھتی ہے۔ سید نسیم شاہ نے صحافیوں کی فلاح وبہبود جاری رکھنے کا عزم کیا۔ قائد دستور سجاد حیدر منا نے کہا کہ صحافیوں پر تشدد کے بڑھتے واقعات افسوس ناک ہیں۔ حکمران اپوزیشن والے وعدے اور دعوے یاد رکھیں تو صحافیوں کی پریشانیاں کم ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا ایف یو جے دستور صحافیوں کیلئے چھت کی فراہمی میں ہمیشہ پہلا قطرہ بنتی ہے۔ معظم جٹ نے کہا کہ ایف یو جے دستور نے ہمیشہ مظلوم صحافیوں کا ساتھ دیا ہے اور ظالموں کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوئی ہے۔ یہی یونین کا مقصد ہوتا ہے۔ جمیل سراج نے کہاکہ حقوق کے ساتھ فرائض جاننا بھی ضروری ہے۔ صحافیوں کو وقت کی رفتار سے چلنا چاہیے اور اپ ڈیٹ رہنا چاہیے۔ میاں عابد حسین، امتیاز احمد،عمارہ کاظمی اور دیگرنے بھی تجاویز دیں۔ سیمینار کے بعد ایوان صحافت ذیل گھر میں عالمی یوم آزادی صحافت کے حوالے سے نعرے بازی اور مظاہرہ کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں