21 گھنٹے طویل مذاکرات دراصل ایک طویل سلسلے کی پہلی قسط تھے، کسی فوری بریک تھرو کی توقع نہیں ہونی چاہیے ، شیری رحمان

*نائب صدر پیپلزپارٹی سینیٹر شیری رحمان کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اہم پیغام*

اسلام آباد ٹاکس کے 21 گھنٹے طویل مذاکرات دراصل ایک طویل سلسلے کی پہلی قسط تھے، کسی فوری بریک تھرو کی توقع نہیں ہونی چاہیے ، شیری رحمان

امن معاہدے اچانک ہونے والے بلیک سوان واقعات نہیں بلکہ طویل اور مرحلہ وار مذاکرات کا نتیجہ ہوتے ہیں ، شیری رحمان

اسلام آباد نے فریقین کو محفوظ ماحول، اسٹریٹجک اعتماد اور تاریخی موقع فراہم کیا تاکہ برف پگھلنے کا آغاز ہو ،شیری رحمان

پہلی ملاقات میں حتمی معاہدے کی توقع غیر حقیقی ہے، جیسے ایران-امریکہ جوہری ڈیل میں 20 ماہ لگے ، شیری رحمان

سفارتکاری صبر، اعتماد سازی، اسپائلرز سے تحفظ اور جنگ سے نکلنے کے سیاسی عزم کا تقاضا کرتی ہے ، شیری رحمان

پاکستان نے کشیدہ صورتحال میں فریقین کو ایک محفوظ راستہ فراہم کیا، شیری رحمان

سول و عسکری قیادت نے دن رات کام کر کے عالمی اعتماد کو بروئے کار لاتے ہوئے مذاکرات کو ممکن بنایا، شیری رحمان

اسلام آباد ایجنڈا بنانے میں مدد دے سکتا ہے مگر نتائج کی ضمانت نہیں دے سکتا ، شیری رحمان

سیز فائر خود ایک بڑی پیش رفت ہے، ایسے ماحول میں خلاف ورزیاں غیر معمولی نہیں ہوتیں ،شیری رحمان

دنیا کو چاہیے کہ اس اسٹریٹجک وقفے کو وقت دے تاکہ تہران اور واشنگٹن غور و فکر کر سکیں، شیری رحمان

پاکستان امن کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی سفارتی صلاحیتوں کو مثبت نتائج کے لیے بروئے کار لاتا رہے گا، شیری رحمان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں