اٹک: لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے کنٹریکٹ ملازم کو بڑا ریلیف دے دیا
اٹک لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس تنویر احمد شیخ نے شکردرہ، اٹک سے تعلق رکھنے والے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ایک کلاس فور ملازم کی آئینی درخواست پر اہم حکم جاری کرتے ہوئے کیس کو قابلِ سماعت قرار دے دیا۔
عدالت نے فاضل لاء آفیسر کو ہدایت کی ہے کہ سیکرٹری ہیلتھ پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب سے آئندہ تاریخِ سماعت سے قبل یا اس روز جواب طلب کیا جائے۔
عدالتِ عالیہ نے درخواست گزار کی جانب سے دائر حکمِ امتناعی (اسٹے) کی درخواست بھی منظور کرتے ہوئے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کنٹریکٹ میں توسیع کی منسوخی کے حکم پر عملدرآمد روک دیا اور درخواست کے حتمی فیصلے تک کنٹریکٹ میں کی گئی توسیع کو بحال رکھنے کا حکم دیا۔
درخواست کے مطابق ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے متعدد ملازمین کو کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی کیا تھا اور ہر سال ان کے کنٹریکٹس میں توسیع کی جاتی رہی۔ رواں سال 2026 میں بھی جنوری کے دوران توسیع کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، تاہم بعد ازاں محکمہ نے بغیر کسی واضح وجہ کے اس حکم کو منسوخ کر دیا، جسے درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کیا۔
درخواست گزار کے وکیل سید احمد رضا گیلانی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے عدالتی حکم کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی ادارے قانون سے بالاتر نہیں ہیں اور وہ بلاجواز یا غیر قانونی طریقے سے کسی ملازم کا کنٹریکٹ منسوخ نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سرکاری ادارہ اپنے اقدامات کے لیے قانون کے سامنے جواب دہ ہے۔