اسلامی ممالک بیرونی مداخلت کے بجائے اپنے مسائل خود حل کریں، مکہ دفاعی معاہدے میں ایران، مصر، قطر، ملائیشیا اور انڈونیشیا کو بھی شامل کیا جائے، پاکستانی عوام ٹرمپ کی نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی کے حامی نہیں، حافظ نعیم الرحمن

اسلامی ممالک بیرونی مداخلت کے بجائے اپنے مسائل خود حل کریں، مکہ دفاعی معاہدے میں ایران، مصر، قطر، ملائیشیا اور انڈونیشیا کو بھی شامل کیا جائے، پاکستانی عوام ٹرمپ کی نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی کے حامی نہیں، حافظ نعیم الرحمن

انقرہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کو اپنے باہمی تنازعات بیرونی قوتوں کی مداخلت کے بجائے مذاکرات، مشاورت اور باہمی افہام و تفہیم سے خود حل کرنے چاہئیں۔ مسلم دنیا کے درمیان اختلافات اور تقسیم کا فائدہ اسرائیل، امریکہ اور دیگر مخالف قوتوں کو پہنچ رہا ہے، علاقائی طاقتوں کو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے خود آگے بڑھنا ہوگا۔ مکہ دفاعی معاہدے میں ایران، مصر، قطر، ملائیشیا اور انڈونیشیا سمیت دیگر اہم مسلم ممالک کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ امت مسلمہ مشترکہ حکمت عملی اختیار کرسکے۔

ترکیہ کی معروف خبر رساں ایجنسی اناطولیہ (Anadolu Agency) کو انٹرویو دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی صورتحال، ایران امریکہ کشیدگی، مکہ دفاعی معاہدے، یمن کے بحران اور پاکستان افغانستان تعلقات سمیت اہم علاقائی و عالمی معاملات پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آٹھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ایران میں عوامی بغاوت کے ذریعے حکومت تبدیل کرنے کی امریکی توقع پوری نہیں ہوسکی۔ پاکستان نے جون 2026 میں سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمت خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت تھی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں صہیونی لابی اور اسلحہ ساز صنعت اس قدر طاقتور ہیں کہ امریکی حکومت اپنے عوام کی خواہشات کے مطابق فیصلے نہیں کر پاتی۔ خطے میں عدم استحکام ان قوتوں کے مفادات کو فائدہ پہنچاتا ہے، جبکہ دنیا بھر میں امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہورہا ہے، جو خود امریکی عوام کے لیے بھی اچھا نہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی مزید فوجی کارروائی ایک خطرناک مہم جوئی ثابت ہوسکتی ہے۔ واشنگٹن کو چاہیے کہ پاکستان میں طے پانے والی مفاہمت کا احترام کرے اور خطے کے ممالک کے تحفظات کو اہمیت دے۔

مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ معاہدہ مسلم ممالک کے درمیان مشاورت، مشترکہ حکمت عملی اور باہمی تعاون کے فروغ کا اہم موقع فراہم کرسکتا ہے۔ اس معاہدے میں ایران، مصر، قطر، ملائیشیا اور انڈونیشیا کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ بڑی مسلم قوتیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوسکیں۔ اس سے مسلم ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوگا اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔

یمن میں سعودی عرب اور حوثی تحریک کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ ایک حساس اور سنجیدہ معاملہ ہے، جسے مزید بڑھانے سے کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا۔ تمام متعلقہ ممالک کو چاہیے کہ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کریں۔

انہوں نے ایران کی جانب سے ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ نمائندوں کے دورے کا مثبت خیرمقدم کرنے کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی طاقتوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے چاہئیں۔ بیرونی قوتوں کی مداخلت مسلم معاشروں میں ایسی تقسیم پیدا کرسکتی ہے جس کا ازالہ مشکل ہوگا۔ اگر مسلم ممالک نے اپنے اختلافات حل نہ کیے تو خدشہ ہے کہ ان کی فوجیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوسکتی ہیں، جو پوری مسلم دنیا کے لیے تباہ کن ہوگا۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام مسلمان بھائی ہیں اور ان کے درمیان ہزاروں کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کا ساتھ دیا ہے، جبکہ افغان عوام نے پہلے روس اور پھر امریکہ کے خلاف جدوجہد کرکے اپنی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کا خیرمقدم کیا تھا، تاہم سرحد پار حملوں کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ افغان حکومت اپنی سرزمین پر سرگرم بعض گروہوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

امیر جماعت اسلامی نے زور دیا کہ اسلام آباد اور کابل کو سفارتی رابطوں میں تیزی لانی چاہیے۔ اس سلسلے میں ترکیہ اور چین جیسے ممالک کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے کیونکہ ان کے پاکستان اور افغانستان دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور وہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

پاکستانی حکومت کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستانی عوام اس فیصلے کی حمایت نہیں کرتے۔ اگر ٹرمپ واقعی دنیا میں امن کے لیے کام کررہے ہوتے تو مختلف خطوں میں جنگیں جاری نہ ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی پشت پناہی کرنے والے امریکی صدر کو نوبل امن انعام کا مستحق قرار نہیں دیا جاسکتا۔

حافظ نعیم الرحمن نے اپنے انٹرویو میں ایک بار پھر اس مؤقف پر زور دیا کہ مسلم دنیا کو بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے باہمی اتحاد، مذاکرات اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے چاہئیں تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں