ایک مقدمہ ایک کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ کوئی عینی شاہد ، نہ ملزم کی گرفتاری مگر جرم بے نقاب ۔۔۔ آج کل ڈی پی او قصور کے طور پر خدمات سر انجام دینے والے ایس ایس پی آفتاب پھلرواں 2008 میں یو این مشن پر مشرقی تیمور میں خدمات سر انجام دے رہے تھے ، ان دنوں میں آفتاب پھلرواں کے سامنے ایک ایسا کیس آیا جو 1 سال سے فائلوں میں پڑا تھا ، یہ اندھے ق.ت.ل کا ایک کیس تھا جس میں 60 سالہ خاتون فرنانڈا کو اس وقت تلوار کے وار سے ق.ت.ل کردیا گیا تھا جب وہ سبزی بیچنے گاؤں سے منڈی جارہی تھی راستے میں ایک سنسان جنگل کے علاقہ میں اسے وار کرکے ڈھیر کردیا گیا تھا مقامی پولیس کوشش کے باوجود پتہ نہ چلا سکی تھی کہ خاتون کا قا.تل کون تھا اور اسے کیوں ق.ت.ل کیا گیا تھا ۔ آفتاب پھلرواں نے اس کیس کو حل کرنے کی حامی بھرلی تو مقامی و دیگر ساتھی افسران نے طنز کیا جس کیس کو ایک سال ہو گیا حل نہ ہوسکا تم غیر مقامی اور غیر ملکی ہو کر اسے کیسے حل کرو گے ، لیکن آفتاب پھلروان نے کیس کی فائل پکڑی اور ایک مترجم کے ساتھ فرنانڈا یعنی اسکے بیٹوں کے گھر پہنچ گئے ، اس خاتون کے بیٹے اور دو بہوؤں سے انکی ملاقات ہوئی ،فرنانڈا کا بڑا بیٹا اسکے ق.ت.ل کے تین ماہ بعد خود.کشی کر چکا تھا اسکی بیوہ گھر میں موجود تھی ، آفتاب پھلرواں نے سب کو سامنے بٹھا کر کچھ سوالات کیے : کیا فرنانڈا کی کسی سے دشمنی تھی ؟ کیا فرنانڈا کا گاؤں میں کسی سے کوئی جھگڑا ہوا تھا ؟ کہیں فرنانڈا کو علاقے کے باغیوں نے تو نہیں مارا ؟ اور کیا فرنانڈا کے پاس مال دولت تھا ؟ بیٹے اور بہوؤں نے جوابا بتایا کہ نہ تو اسکی کسی سے دشمنی تھی ، نہ محلے میں کوئی جھگڑا تھا ، باغی بچوں اور عورتوں کو نشانہ نہیں بناتے ، جبکہ فرنانڈا کے پاس وہاں کے حساب سے 5 سے 7 لاکھ موجود تھے جو اسے ایک آبائی جائیداد بیچنے سے حاصل ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ اب آفتاب پھلرواں کو پہلا اشارہ مل گیا اس سے آگے انہوں نے پنجاب پولیس کا روایتی حربہ یعنی شک کا جال پھیلا دیا ۔۔۔۔ آفتاب پھلروان نے گھر والوں سے پوچھا اس رقم کا سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہونا تھا ؟ تو پتہ چلا کہ جو بیٹا خود .کشی کر چکا وہ اس رقم کے لیے اکثر ماں سے لڑتا کہ وہ اسکو اسکا حصہ دے تاکہ وہ کوئی کاروبار کر لے لیکن ماں رقم دینے پر آمادہ نہ تھی ۔ آفتاب پھلرواں نے پھر ایک سوال کیا جس روز صح خاتون ق.ت.ل ہوئی اس روز اسکا بیٹا کہاں تھا ، جواب ملا وہ گھر میں ہی تھا اور ماں کے گھر سے نکلنے کے کچھ لمحوں بعد وہ بھی چلا گیا اور 2 گھنٹے بعد واپس آیا تھا ، اسکی بیوی سے پوچھا گیا گھر آیا تو اس نے سب سے پہلے کیا کیا ؟ پتہ چلا کہ وہ گھر میں داخل ہوتے ہی باتھ روم میں گیا اور اپنے کپڑے خود دھو کر سکھانے کے لیے ڈالے، اسکی بیوہ کے بقول اس سے شادی کے بعد اس نے کبھی اپنے کپڑے خود نہیں دھوئے ۔۔۔۔ آفتاب پھلرواں جانتے تھے کہ یہ معمہ اب حل ہو چکا لیکن پھر بھی انہوں نے پوچھا ، فرنانڈا کے بڑے بیٹے نے خود۔ کشی کیوں کی اور آخری دنوں میں وہ کیا باتیں کرتا تھا ؟ اسکی بیوی نے بتایا کہ وہ بہت پریشان رہتا تھا اور میں ان دنوں حمل سے تھی وہ مجھے کہا کرتا اگر بیٹا پیدا ہو تو اسکا نام فرنانڈو رکھنا اور بیٹی ہو تو فرنانڈا نام رکھنا ۔۔۔اسکے علاوہ وہ اکثر آسمان کی طرف دیکھ کر ماں کو یاد کرتا انکا نام لیتا اور کہتا ، پیسہ دولت جائیداد سب یہاں رہ جاتے ہیں ماں کی دعائیں ساتھ ہوتی ہیں ، انسان کو اپنے ماں باپ کو تکلیف نہیں دینی چاہیے ۔۔۔۔۔ آفتاب پھلرواں نے اس کیس کی رپورٹ میں لکھا : ملزم اپنی ماں کی رقم ہتھیانا چاہتا تھا کیونکہ وہ دینے سے انکاری تھی ، یہ وجہ ق۔ت۔ل ہے ، اور قا۔تل ماں کو ق۔ت۔ل کرنے کے بعد سکون کھو بیٹھا وہ ڈپریشن میں چلا گیا زندگی میں اسکی دلچسپی ختم ہو گئی چنانچہ اس نے بھی خود ۔کشی کر لی ،حیرانگی کی بات ہے کہ جس واقعہ کا کوئی عینی شاہد نہ تھا کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا نہ کسی نے اعتراف کیا مگر تفتیشی افسر کی مہارت کی وجہ سے یہ معمہ حل ہو گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں