پشاور اسکول سانحہ: 35 افراد جاں بحق، تحقیقات کا حکم، ذمہ داروں کے تعین کے لیے انکوائری کمیٹی قائم

### پشاور اسکول سانحہ: 35 افراد جاں بحق، تحقیقات کا حکم، ذمہ داروں کے تعین کے لیے انکوائری کمیٹی قائم

پشاور کی دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے دلخراش واقعے نے پورے صوبے کو سوگوار کر دیا۔ المناک حادثے میں 34 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر سمیت 35 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔ جاں بحق بچوں میں چھ بچیاں بھی شامل ہیں۔ حادثے کے بعد جاں بحق بچوں اور خاتون ٹیچر کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، جس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، سیاسی رہنماؤں، پولیس افسران، شہدا کے لواحقین اور اہل علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پشاور کی تاریخ میں یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، جس پر پورا شہر غمزدہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور چار روز میں رپورٹ سامنے آنے کی توقع ہے۔ اسکول کی عمارت کے ڈھانچے کا مکمل آڈٹ کیا جائے گا جبکہ سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی حالت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ تحقیقات میں سب سے پہلے یہ معلوم کیا جائے گا کہ نجی اسکول کو این او سی کس نے جاری کیا اور عمارت کے حوالے سے متعلقہ اداروں نے اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ واقعے میں جو بھی ذمہ دار پایا گیا، اس کے خلاف کارروائی ہوگی اور بچوں کی زندگیوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

گورنر نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 10، 10 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے 2، 2 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان بھی کیا۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ وزیراعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے، امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے گورنر خیبرپختونخوا سے رابطہ کرکے واقعے کی مکمل رپورٹ بھی طلب کی اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی۔

ادھر امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پھول جیسے بچے حکمرانوں کی نااہلی اور غفلت کا شکار ہوگئے، پوری قوم اس المناک سانحے پر غمزدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ کسی دور دراز علاقے میں نہیں بلکہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں پیش آیا، جہاں عمارتوں کی حفاظت اور نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عمارت کی تعمیر کے دوران مختلف ادارے متحرک دکھائی دیتے ہیں، لیکن جب کسی عمارت کی خستہ حالی کی نشاندہی کی جاتی ہے تو بروقت کارروائی نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق بااختیار بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی بھی ایسے واقعات کی روک تھام میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں بااختیار شہری حکومتیں قائم کی جائیں اور بلڈنگ کنٹرول کے نظام کو مؤثر بنایا جائے تاکہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

امیر جماعت اسلامی نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ زخمی بچوں کا فوری اور مفت علاج یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کی مقامی قیادت کو متاثرہ خاندانوں سے رابطہ کرنے، ان کی ضروریات کا جائزہ لینے اور علاج سمیت ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔

دوسری جانب اسکول کے مالک کے مطابق عمارت کی بنیاد تقریباً ڈیڑھ سال قبل رکھی گئی تھی اور بارشوں کے باعث حادثہ پیش آیا۔ تاہم واقعے کے اصل اسباب، عمارت کی تعمیر کے معیار، حفاظتی انتظامات اور متعلقہ اداروں کی ممکنہ غفلت کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔

سانحے میں ایک ہی خاندان کے پانچ بچوں کی ہلاکت نے غم کی شدت مزید بڑھا دی، جبکہ معصوم عماد بھی زندگی کی بازی ہار گیا اور اس کی بہن کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا۔ واقعے نے نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت، این او سی کے اجرا اور اسکولوں کی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا تحقیقات کے نتیجے میں ذمہ داروں کا حقیقی تعین ہوگا اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے یا یہ المناک واقعہ بھی چند روزہ خبروں کے بعد فراموش کر دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں