پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) کے فنڈز، ہاکی منصوبوں اور پنشنرز کے حقوق کے حوالے سے سنگین تحفظات

## پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) کے فنڈز، ہاکی منصوبوں اور پنشنرز کے حقوق کے حوالے سے سنگین تحفظات

پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) کے مالی معاملات، ہاکی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کے استعمال اور ملازمین و پنشنرز کے حقوق کے حوالے سے نہایت سنجیدہ نوعیت کے تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔ ان معاملات کی شفاف، غیر جانب دارانہ اور مکمل تحقیقات وقت کی اہم ضرورت ہیں، کیونکہ قومی اداروں کے مالی وسائل عوامی امانت ہوتے ہیں اور ان کا استعمال مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہونا چاہیے۔

تشویش کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہاکی کے منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کو مبینہ طور پر غیر متعلقہ مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ نہ صرف مالی نظم و ضبط بلکہ کھیلوں کی ترقی کے لیے مختص وسائل کے درست استعمال کے حوالے سے بھی ایک اہم سوال ہے۔ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے، اور اس کی ترقی کے لیے مختص رقم کو کھلاڑیوں کی تربیت، سہولیات کی فراہمی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور متعلقہ منصوبوں پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان فنڈز کے اجرا، تقسیم اور اخراجات کا مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے اور اس بات کی جانچ کی جائے کہ آیا رقم مقررہ مقاصد کے مطابق استعمال ہوئی یا نہیں۔

اس معاملے میں وزیرِ مملکت برائے بین الصوبائی رابطہ (IPC)، جناب وانی صاحب، کے کردار اور فیصلوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان سے متعلق مالی و انتظامی فیصلوں کی شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے وسائل کس اختیار کے تحت، کن مقاصد کے لیے اور کن منظوریوں کے ساتھ استعمال کیے گئے۔ کسی بھی عہدیدار کے حوالے سے حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے متعلقہ دستاویزات، مالی ریکارڈ اور سرکاری وضاحتوں کی بنیاد پر تحقیقات ہونی چاہییں۔

اسی طرح، ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ کے کردار اور ترجیحات کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ادارے کے سربراہ کی بنیادی ذمہ داری بورڈ کے مفادات، ملازمین کے جائز حقوق، پنشنرز کی مالی ضروریات اور ادارے کے قواعد و ضوابط کا تحفظ کرنا ہے۔ اگر انتظامی فیصلوں میں PSB کے ملازمین اور پنشنرز کے مفادات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، یا ادارے کے اپنے وسائل اور مسائل کے مقابلے میں وزارت کے انتظامی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے، تو اس صورتِ حال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کو چاہیے کہ وہ اپنے قانونی اختیارات اور ذمہ داریوں کے مطابق ادارے کے مفادات کا تحفظ کریں اور تمام فیصلوں میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنائیں۔

### ملازمین اور پنشنرز کے حقوق کا تحفظ

پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ملازمین اور پنشنرز نے اپنی خدمات کے ذریعے ادارے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی تنخواہوں، پنشن، واجبات اور دیگر جائز مالی حقوق کے معاملات کو غیر ضروری تاخیر یا انتظامی پیچیدگیوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ پنشن محض ایک مالی ادائیگی نہیں، بلکہ طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے ملازمین کا جائز حق اور ان کے معاشی تحفظ کا اہم ذریعہ ہے۔

اگر ادارے کے مالی وسائل کی تقسیم یا انتظامی ترجیحات کے باعث ملازمین اور پنشنرز کے واجبات متاثر ہو رہے ہیں، تو متعلقہ حکام کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پنشن اور دیگر واجبات کے لیے مختص رقوم کی صورتِ حال، ادائیگیوں میں تاخیر کی وجوہات اور مستقبل کے لائحۂ عمل کو واضح کیا جائے۔

### شفاف تحقیقات اور جواب دہی کا مطالبہ

حکومت، وزارتِ بین الصوبائی رابطہ اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کے متعلقہ حکام سے مطالبہ ہے کہ:

1. ہاکی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کے استعمال کا مکمل مالی آڈٹ کرایا جائے۔
2. یہ واضح کیا جائے کہ فنڈز کن منصوبوں پر، کس منظوری کے تحت اور کن مالی قواعد کے مطابق خرچ کیے گئے۔
3. وزیرِ مملکت برائے IPC اور دیگر متعلقہ حکام کے فیصلوں کا ریکارڈ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے۔
4. ڈائریکٹر جنرل PSB کی انتظامی کارکردگی، ذمہ داریوں اور ملازمین و پنشنرز کے حقوق کے تحفظ کے اقدامات کی جانچ کی جائے۔
5. ملازمین اور پنشنرز کے زیرِ التوا واجبات اور پنشن کی ادائیگی کے لیے واضح اور قابلِ عمل منصوبہ پیش کیا جائے۔
6. اگر تحقیقات میں کسی قسم کی مالی بے ضابطگی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی تصدیق ہو تو قواعد و قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

### نتیجہ

پاکستان اسپورٹس بورڈ کسی فرد یا عہدیدار کی ذاتی جاگیر نہیں، بلکہ ایک قومی ادارہ ہے جس کے وسائل قومی کھیلوں کی ترقی، ادارے کی بہتری اور ملازمین و پنشنرز کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے استعمال ہونے چاہییں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہاکی منصوبوں کے فنڈز، مالی فیصلوں اور انتظامی ترجیحات کے حوالے سے اٹھنے والے تمام سوالات کا جواب شفاف تحقیقات اور مستند ریکارڈ کی بنیاد پر دیا جائے۔

ہماری اپیل ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں، حقائق عوام کے سامنے لائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ قومی ادارے کے وسائل اپنے مقررہ مقاصد کے لیے استعمال ہوں۔ **قومی کھیلوں کے فنڈز کا شفاف استعمال، ملازمین کے حقوق کا تحفظ اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی کسی پر احسان نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔**

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں