ٹاپ سٹی سوسائٹی پر 3 کنال 2 مرلے نجی پلاٹ پر قبضے کا الزام، مالکان کا قانونی کارروائی کا مطالبہ

ٹاپ سٹی سوسائٹی پر 3 کنال 2 مرلے نجی پلاٹ پر قبضے کا الزام، مالکان کا قانونی کارروائی کا مطالبہ

راولپنڈی: ٹاپ سٹی سوسائٹی، کشمیر روڈ، اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب، کے خلاف سوسائٹی سے ملحقہ 3 کنال 2 مرلے کے نجی پلاٹ پر مبینہ قبضے کا الزام سامنے آیا ہے۔

متاثرہ مالکان حماد خالد، جواد خالد، شوزب خان اور محبیب الرحمان نے مشترکہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ پلاٹ ان کی ملکیت ہے اور وہ 2017 سے اس پر قابض اور مالک ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ مارکیٹ ویلیو تقریباً 70 کروڑ روپے ہے، تاہم ٹاپ سٹی انتظامیہ مبینہ طور پر پلاٹ پر قبضہ کرکے اسے سوسائٹی میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

متاثرہ مالکان کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر رات کے اندھیرے میں پلاٹ پر قبضہ کیا گیا جبکہ موقع پر موجود چوکیدار کو ٹاپ سٹی کے 25 سے 30 سکیورٹی گارڈز نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کے پاس بھاری اسلحہ بھی موجود تھا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ٹاپ سٹی انتظامیہ کی جانب سے انہیں مسلسل دباؤ کا سامنا ہے اور وہ اپنی ملکیتی اراضی کے تحفظ کے لیے مختلف سرکاری اداروں سے رجوع کرچکے ہیں۔

متاثرہ افراد کے مطابق انہوں نے راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے)، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سمیت دیگر متعلقہ حکام کو درخواستیں جمع کرائی ہیں جبکہ وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان کے نام بھی درخواستیں دی گئی ہیں۔

متاثرہ مالکان نے الزام عائد کیا کہ ٹاپ سٹی کے مالک کنور معیز خان، جنرل منیجر یاسین خان اور سکیورٹی انچارج ارشد کے خلاف تاحال مؤثر قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ملکیتی اراضی پر مبینہ قبضے کے خلاف قانونی تحفظ اور انصاف کے حصول کے لیے تمام متعلقہ فورمز سے رجوع کریں گے۔

واضح رہے کہ مذکورہ الزامات متاثرہ مالکان کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جبکہ ٹاپ سٹی انتظامیہ کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں