![]()
سارہ انعام کی چوتھی برسی کے موقع پر شمعیں روشن کی گئیں
اہل خانہ کا انصاف کا مطالبہ، شاہنواز امیر کی سزا برقرار رکھنے کی اپیل
اسلام آباد (سٹی رپورٹر) سارہ انعام کی چوتھی برسی کے موقع پر ان کے اہل خانہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپیل کی ہےکہ وہ مقدمے کی سماعت آگے بڑھاتے ہوئے اپیل کا فیصلہ کرے اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے، سزا اور سزائے موت کو برقرار رکھا جائے،پاکستان میں خواتین اور کم عمر بچیوں کے قتل کے واقعات ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکے ہیں،بعض مقدمات عدالت سے باہر مبینہ ’’مفاہمت‘‘ یا حلف ناموں کے ذریعے ختم ہو جاتے ہیں، جس سے متاثرہ خواتین اور ان کے خاندانوں کو انصاف کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں،سارہ کے والد انعام الرحیم اور والدہ کوکب انعام نے ان خیالات کا اظہار سارہ انعام کی چوتھی برسی کے موقع پر نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں شمعیں روشن کرنے کی تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا،ان کا مزید کہنا تھا کہ سارہ انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے ستمبر 2022 میں بے رحمانہ تشدد کے بعد قتل کیا، جس کے بعد مقدمے میں شاہنواز امیر کو مجرم قرار دیتے ہوئے دسمبر 2023 میں سزائے موت سنائی گئی۔انہوں نے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ و نچلے افسران، ایف آئی اے اور استغاثہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ تحقیقات، شواہد پیش کرنے اور عدالتی کارروائی میں تعاون قابلِ قدر تھا، جبکہ اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹس کی جانب سے مقدمے کی کارروائی بروقت مکمل کیے جانے کو بھی سراہا گیا۔اہل خانہ کے مطابق جنوری 2024 میں مجرم شاہنواز امیر نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا اور سزائے موت کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ بیان میں کہا گیا کہ اپیل متعدد مرتبہ سماعت کے لیے مقرر ہوئی، تاہم اپیل کنندہ فریق کی جانب سے تاخیر یا وکیل کی عدم موجودگی کے باعث سماعت ملتوی ہوتی رہی۔سارہ انعام کے اہل خانہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپیل کی کہ وہ مقدمے کی سماعت آگے بڑھاتے ہوئے اپیل کا فیصلہ کرے اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے، سزا اور سزائے موت کو برقرار رکھا جائے۔اہل خانہ نے پاکستان میں خواتین کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اور کم عمر بچیوں کے قتل کے واقعات ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکے ہیں۔ ان کے بقول میڈیا اور پولیس تک پہنچنے والے واقعات ممکنہ طور پر ایسے جرائم کی بڑی تعداد کا صرف ایک حصہ ہیں۔بیان میں خواتین کے خلاف تشدد کے مقدمات میں مبینہ طور پر دباؤ، اثر و رسوخ اور معاشی عدم مساوات کے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ بعض مقدمات عدالت سے باہر مبینہ ’’مفاہمت‘‘ یا حلف ناموں کے ذریعے ختم ہو جاتے ہیں، جس سے متاثرہ خواتین اور ان کے خاندانوں کو انصاف کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں۔سارہ انعام کے اہل خانہ نے نور مقدم کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ خواتین کے خلاف تشدد کے خلاف انصاف کے حصول کی ایک مثال ہے اور امید ظاہر کی کہ سارہ انعام کے مقدمے میں بھی انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے۔اہل خانہ نے سارہ انعام کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں قتل ہونے والی تمام خواتین اور بچیوں کے لیے بھی انصاف چاہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔اس موقع پرنور مقدم کے والدشوکت مقدم نے نور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر کی صدر پاکستان کو دی جانیوالی معافی کی درخواست کو مسترد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔تقریب میں نورمقدم کے ولد شوکت مقدم۔ ظفر قریشی سمیت دوست احباب اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔تقریب کے آخر میں سارہ انعام کی یاد میں شمعیں بھی روشن کی گئیں۔