وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا 4 اکتوبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان، مطالبات منوائے بغیر واپس نہ آنے کا عزم، 5 اکتوبر کو یوم فتح منائیں گے
پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ پرامن ہوگا، اس مرتبہ عوام کا ایسا سمندر نکلے گا جو تاریخ میں پہلے کبھی نہیں نکلا ہوگا، اپنے مطالبات منوائے بغیر اسلام آباد سے واپس نہیں آئیں گے۔ 5 اکتوبر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سالگرہ کے موقع پر یوم فتح منائیں گے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر کا ایک منتخب وزیراعلیٰ کے خلاف لہجہ سب نے دیکھا، انہیں تہذیب کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کی زبان اور بیانات کے ذریعے ہمیں اشتعال دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہم آپس میں لڑتے رہیں، کیونکہ اس سے انہیں فائدہ ہوتا ہے۔ ان کے مزے ہیں، قرضے بڑھا رہے ہیں، یہ انتشار چاہتے ہیں اور اسی میں مسلم لیگ (ن) فائدہ تلاش کرتی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھرنے والے بھی جانتے ہیں کہ اس مرتبہ عوام کا سمندر آئے گا۔ بیرسٹر گوہر، محمود اچکزئی اور دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں اور انہیں لانگ مارچ کی تاریخ سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرنڈر کرنے والے ہم نہیں ہیں، ہماری مرضی ہے کہ ہم کس طرح اور کس وقت لانگ مارچ کریں۔ جو بھی کارروائی کرے، وردی میں کرے، ان کے ارادے ٹھیک نظر نہیں آتے۔ کوئی غیر آئینی کام کرے گا تو اسے اس کی ڈیوٹی یاد دلائیں گے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام سے اپیل کی کہ آنے والے اہلکاروں کی مہمان نوازی کریں۔
وزیراعلیٰ نے چیف جسٹس ڈوگر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کے حکم کی توہین ہو رہی ہے اور اسلام آباد کو بند کیا گیا ہے۔ انہوں نے جسٹس یحییٰ آفریدی سے بھی اپیل کی کہ خیبرپختونخوا آپ کا صوبہ ہے، اسے پاکستان سے کٹا ہوا رکھا گیا ہے، اس کے خلاف ایکشن لیں۔
پشاور: وزیر اعلی خیبرپختونخواسہیل آفریدی کی وزیراعلی ہاؤس میں پریس کانفرنس
سیاسی کمیٹی کی میٹنگ میں تمام تفصیلات زیر غور ائی
ہمارا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو روانہ ہوگا
پولیٹکل کمیٹی میں تمام معاملات کی مشاورت کی گئی
کمیٹی متفق ہوئی ہے کہ مارچ چار اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہو گا
ہمارا لانگ مارچ حقیقی آزادی کے لیے ہے
بانی پی ٹی ائی اج رات رہا ہو جائیں گے اگر ججز کی بات مانی جائے
جب اپ کی سنوائی نا ہو تو اخر ائین نے اجازت دی ہے کہ پرامن احتجاج کر سکتے ہیں
جنہوں نے عدلیہ پر حملے کرائے تو ان کا مائنڈ سیٹ ہے پاکستان کو تقسیم کرنا ہے
مریم نے بیان دیا کہ ہمیں انڈیا سے نہیں تین صوبوں سے خطرہ ہے
کارکنان 4تاریخ سے مطمئین ہیں انہیں پتہ ہے کہ یہ ٹیسٹ میچ ہے
ہم نے ٹاس جیت لیا اب ہماری مرضی کہ بیٹنگ لے یا فیلڈنگ کرے
ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات کے راستے بند نہیں کرتے مذاکرات بھی جاری رہیں گے اور احتجاج بھی ہوں گے
خان صاحب نے بھی ہمیشہ مذاکرات کوترجیح دی ہم مذاکرات کا راستہ بند نہیں کریں گے