اسلام آباد میں کل جماعتی تحفظ حرمین شریفین کانفرنس، سعودی عرب کو پاکستان کی ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دیتے ہوئے مکمل یکجہتی کا اعلان

اسلام آباد میں کل جماعتی تحفظ حرمین شریفین کانفرنس، سعودی عرب کو پاکستان کی ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دیتے ہوئے مکمل یکجہتی کا اعلان

اسلام آباد میں پاک سعودی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام کل جماعتی تحفظ حرمین شریفین کانفرنس منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم، جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، صاحبزادہ شاہ اویس نورانی، مولانا فضل الرحمان خلیل، مولانا اورنگ زیب فاروقی، مولانا علی محمد ابو تراب، پیر مظہر سعید شاہ اور پروفیسر سجاد قمر سمیت مذہبی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس میں سعودی عرب اور حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق محض سیاسی یا حکومتی نہیں بلکہ مقدس اور روحانی رشتہ ہے۔ ان کے مطابق حرمین شریفین کا تحفظ پاکستانی مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور حرمین شریفین کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا۔

سردار محمد یوسف نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سعودی عرب کو پاکستان کی ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو یہ لکیر پار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان بھی قومی جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔

سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ کانفرنس میں مذہبی و سیاسی حلقے حرمین شریفین کے تحفظ کے معاملے پر یک زبان ہیں۔ انہوں نے حوثی گروپ سے حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پاکستانی عوام کو اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔

حافظ عبدالکریم نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام بھی سعودی عرب اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ بعض قوتیں اپنے پراکسیز کے ذریعے ارض مقدس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہی ہیں۔ یہ ان کا سیاسی موقف اور الزام ہے، جس کی آزادانہ تصدیق کانفرنس کی رپورٹ میں موجود نہیں۔

اے جے کے اسمبلی کے رکن پیر مظہر سعید شاہ نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حوثیوں سے حملے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز، باب المندب اور دیگر بحری راستے کھولنے پر بھی زور دیا۔

صاحبزادہ شاہ اویس نورانی نے کہا کہ ارض مقدس پر حملے کی صورت میں پاکستانی عوام خاموش نہیں رہ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان حرمین شریفین کے ساتھ ساتھ سعودی حکومت کے ساتھ بھی کھڑا ہے۔

پاک سعودی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان خلیل نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاہدے کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ ان کے مطابق معاملہ صرف چند ہزار افراد کا نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم سعودی عرب اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

مولانا اورنگ زیب فاروقی نے حملوں کے پس پردہ قوتوں کے حوالے سے الزامات عائد کرتے ہوئے امریکہ پر مسلم ممالک کو باہم لڑانے کی کوششوں کا الزام لگایا اور کہا کہ حملہ آوروں کی پشت پناہی کرنے والوں کو ایسی کارروائیوں سے باز آنا چاہیے۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق کانفرنس میں پیش نہیں کی گئی۔

مولانا عبدالحق ثانی نے حرمین شریفین کی جانب اٹھنے والی کسی بھی نظر کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا، جبکہ مولانا علی محمد ابو تراب نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی حکومت کی حمایت کا اظہار کیا۔

پاک سعودی یکجہتی کونسل کے رہنما پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ پاکستان کے عوام، حکومت اور ریاست سعودی عرب کے ساتھ ہیں اور پاکستانی نوجوان سعودی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے لیے تیار ہیں۔ کانفرنس کے شرکاء نے حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں