راولپنڈی، اسلام آباد میں ممکنہ لانگ مارچز کے پیش نظر سخت سیکیورٹی، تعلیمی ادارے اور مارکیٹس بند رکھنے کے فیصلے پر شہریوں اور تاجروں کے تحفظات سامنے آگئے

راولپنڈی، اسلام آباد میں ممکنہ لانگ مارچز کے پیش نظر سخت سیکیورٹی، تعلیمی ادارے اور مارکیٹس بند رکھنے کے فیصلے پر شہریوں اور تاجروں کے تحفظات سامنے آگئے

راولپنڈی اور اسلام آباد میں 20 سے 27 ستمبر کے دوران متوقع مختلف لانگ مارچز کے پیش نظر انتظامیہ اور پولیس نے سیکیورٹی انتظامات سخت کردیئے ہیں۔ راولپنڈی میں تعلیمی اداروں، ہوٹلوں، مارکیٹس اور ٹرانسپورٹ ٹرمینلز کی بندش سمیت مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ جڑواں شہروں کے داخلی راستوں پر اسپائکس والے کنٹینرز نصب کیے جارہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں اسکول، کالجز، جامعات، ہوٹل، موٹلز، ریسٹ ہاؤسز اور سرائے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے ٹرمینلز بھی بند رہیں گے۔ میٹرو بس اور گرین الیکٹرک بس سروس معطل رکھنے کے ساتھ شہر کی مارکیٹس اور ہول سیل مارکیٹس بھی بند رکھنے کی اطلاعات ہیں۔

فیض آباد، چونگی نمبر 26، روات، چکری، اڈیالہ روڈ، پیرودھائی، بھارہ کہو اور 17 میل سمیت مختلف داخلی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں، جبکہ ڈرونز کے ذریعے نگرانی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ راولپنڈی میں سیف سٹی منصوبے کے تحت نصب تقریباً 1500 کیمروں کو بھی نگرانی کے لیے فعال کیا گیا ہے۔

جڑواں شہروں کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے، ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کرنے کی اطلاعات ہیں۔ رینجرز اور پنجاب کانسٹیبلری کے مزید دستے طلب کیے گئے ہیں جبکہ پولیس کو آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں فراہم کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

اٹک پولیس کو بھی رینجرز کی نفری، بکتر بند گاڑیاں، قیدیوں کی وینز، بھاری ہتھیار اور اضافی اہلکار فراہم کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق خیبرپختونخوا سے آنے والے ممکنہ مرکزی لانگ مارچ کو روکنے کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں۔

ادھر جماعت اسلامی کے اعلان کردہ لانگ مارچ کے باعث راولپنڈی میں سیاسی سرگرمیاں بڑھنے کا امکان ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کے ٹرین مارچ کے 22 ستمبر کو راولپنڈی پہنچنے کی اطلاع ہے، جبکہ راولپنڈی ڈویژن کے مختلف اضلاع سے قافلے لیاقت باغ پہنچیں گے اور ان کی آمد تک احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

سیکیورٹی اقدامات کے باعث راولپنڈی میں 21 سے 27 ستمبر تک کاروباری، تجارتی اور سماجی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ اڈیالہ جیل میں قید ملزمان کو بھی اس دوران راولپنڈی اور اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ جیل عملے کو سیکیورٹی ڈیوٹی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایدھی مراکز کو بھی الرٹ کردیا گیا ہے۔

ان اقدامات پر تاجر اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ انجمن تاجران سبزی منڈی صدر کے صدر غلام قادر میر اور آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے صدر عرفان مظفر کیانی نے بار بار ہڑتالوں، لانگ مارچ، سڑکوں کی بندش، کنٹینرز کی تنصیب اور تعلیمی اداروں کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف، کے ساتھ سیاسی مذاکرات پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی بے یقینی کم کرنے اور معیشت کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب اسلام آباد سے بھی شہری حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ اگر ممکنہ احتجاج اور سیکیورٹی خدشات کے باعث راولپنڈی کے تعلیمی ادارے بند کیے جارہے ہیں تو اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے حوالے سے یکساں حفاظتی پالیسی کیوں اختیار نہیں کی جارہی۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ایک ردعمل میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کا رخ اسلام آباد کی جانب ہونے کے باوجود اس کے اثرات راولپنڈی کے تعلیمی اداروں پر پڑ رہے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جہاں بھی امن و امان کی صورتحال کے باعث بچوں کے تحفظ کو خطرہ ہو، وہاں مقامی سطح پر تعطیل یا متبادل حفاظتی انتظامات کیے جائیں۔ ردعمل میں صحافتی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے معاملے پر آواز اٹھائے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاسی و انتظامی فیصلوں کے دوران عام شہریوں، خصوصاً طلبہ، تاجروں اور روزمرہ سفر کرنے والے افراد کے معمولات اور معاشی سرگرمیوں کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں