بھارت میں پاکستانی قرار دے کر لڑکی کی بسکٹ فروخت کرنے کی ویڈیو وائرل، دعوے کی آزادانہ تصدیق نہ ہوسکی

اس اسکرین شاٹ کی بنیاد پر اتنا واضح ہے کہ بھارتی صارف Neeraj Chaurasiya نے ویڈیو کو پاکستان سے منسوب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے، لیکن پوسٹ میں ویڈیو کی جگہ، شہر یا اصل ماخذ کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔

میں نے اس دعوے اور پوسٹ کے الفاظ سے ویب پر تلاش بھی کی، مگر فی الحال کوئی معتبر خبر، اصل ویڈیو ماخذ یا قابلِ اعتماد فیکٹ چیکر نہیں ملا جو اس مخصوص ویڈیو کو پاکستان کا ثابت کرتا ہو۔ اس لیے اسے پاکستان کی ویڈیو کہنا فی الحال غیرمصدقہ دعویٰ ہے۔

تصویر میں بازار، لباس اور ماحول جنوبی ایشیا سے مشابہ ضرور نظر آتے ہیں، لیکن صرف ظاہری شکل سے پاکستان یا بھارت کی شناخت نہیں کی جاسکتی۔

اگر آپ اس پر خبر بنانا چاہتے ہیں تو محفوظ اور درست انداز یہ ہوگا:

بھارت میں پاکستانی قرار دے کر لڑکی کی بسکٹ فروخت کرنے کی ویڈیو وائرل، دعوے کی آزادانہ تصدیق نہ ہوسکی

بھارت میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہے جس میں ایک لڑکی بازار میں بسکٹ فروخت کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ بھارتی صارف نیراج چورسیا نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ پاکستان کی ہے اور لڑکی سڑک کنارے بسکٹ فروخت کررہی ہے۔

پوسٹ میں لڑکی کی محنت اور صورتحال پر جذباتی تبصرہ بھی کیا گیا ہے، تاہم پوسٹ میں ویڈیو کے مقام، تاریخ یا اصل ماخذ سے متعلق کوئی قابلِ تصدیق معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

دستیاب معلومات اور کی جانے والی ویب تلاش کے دوران بھی اس مخصوص ویڈیو کے پاکستان سے تعلق کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ چنانچہ ویڈیو کو پاکستان کی قرار دینے کے دعوے کو فی الحال غیرمصدقہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں