وفاقی حکومت نے کفایت شعاری کے مزید اقدامات نافذ کردیے، سرکاری گاڑیوں کے فیول کوٹے میں 50 فیصد کمی، نئی گاڑیوں اور پائیدار اشیا کی خریداری پر پابندی عائد

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایندھن کے تحفظ اور اضافی کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت سرکاری اداروں کے لیے متعدد نئی پابندیاں اور بچت کے اقدامات فوری طور پر نافذ کردیے ہیں۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے 17 ستمبر 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدامات ابتدائی طور پر تین ماہ کے لیے نافذ ہوں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضروری خدمات اور ایف بی آر کی آپریشنل گاڑیوں کے علاوہ سرکاری گاڑیوں کے فیول کوٹے میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔ یہ پابندی مذکورہ اداروں کی انتظامی یا غیر آپریشنل تشکیل کے زیر استعمال گاڑیوں پر بھی لاگو ہوگی، تاہم ترقیاتی منصوبوں کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے تمام اداروں کے نان سیلری نان ری کرنگ (Non-ERE) بجٹ میں ماہانہ بنیادوں پر 5 فیصد کمی کی بھی منظوری دی ہے۔ یہ اقدام بیرون ملک مشنز اور ان مشنز میں تعینات افسران و اہلکاروں پر بھی لاگو ہوگا، تاہم کرایوں، تعلیمی اخراجات اور طبی سہولیات سے متعلق واجبات اس میں شامل نہیں ہوں گے۔

نوٹیفکیشن میں ہر قسم کی نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے گاڑیوں کی خریداری کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اسی طرح آئی ٹی سے متعلق خریداری کے علاوہ تمام پائیدار اشیا (Durables) کی خریداری بھی مکمل طور پر ممنوع قرار دی گئی ہے۔

وفاقی حکومت نے تین ماہ کے لیے تمام غیر ملکی دوروں اور سفری سرگرمیوں پر بھی مکمل پابندی عائد کردی ہے، حتیٰ کہ لازمی نوعیت کے دورے بھی اس پابندی میں شامل ہوں گے۔ تاہم بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کی جانب سے فراہم کردہ اسکالرشپس، اکنامک افیئرز ڈویژن کے ذریعے ہونے والی تربیت اور کورسز، یا حکومت پاکستان کے ادارہ جاتی معاہدوں کے تحت ہونے والے دورے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ لازمی اور اہم تقریبات میں پاکستان کے سفیر یا ہائی کمشنر نمائندگی کریں گے۔

ناگزیر غیر ملکی دوروں کی صورت میں وفاقی وزرا، وزرائے مملکت، مشیران، معاونین خصوصی وزیراعظم، پارلیمانی اور سرکاری افسران صرف اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔

حکومت نے سرکاری اجلاسوں کو ترجیحاً ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، تاہم انٹرا سٹی اجلاس اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق غیر ملکی وفود کی میزبانی کے علاوہ کوئی سرکاری عشائیہ منعقد نہیں کیا جائے گا، جبکہ حکومت کی جانب سے فنڈ کیے جانے والے تمام سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگراموں اور کانفرنسوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ناگزیر صورت میں ایسے پروگرام سرکاری آڈیٹوریم، کمیٹی رومز یا دیگر دستیاب سرکاری مقامات پر منعقد کیے جائیں گے۔

شادی بیاہ سے متعلق تمام سرکاری و نجی تقریبات میں صرف ون ڈش کی پابندی برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کابینہ ڈویژن نے کاروباری و تجارتی مراکز کے لیے پہلے سے جاری اوقات کار بھی برقرار رکھے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز، بازار، ڈپارٹمنٹل، گروسری، جنرل اور کریانہ اسٹورز رات 9 بجے بند ہوں گے، جبکہ میرج ہالز، مارکیز اور دیگر تجارتی مقامات جہاں تہوار یا تقریبات منعقد ہوتی ہیں رات 10 بجے بند ہوں گے۔ ریسٹورنٹس، کیفے، ایٹر یز اور فوڈ آؤٹ لیٹس جبکہ الگ سے قائم پھل و سبزی کی دکانیں رات 11 بجے تک کھلی رہ سکیں گی، ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

فارمیسیز، طبی و میڈیکل سپلائی اسٹورز، میڈیکل لیبارٹریز، کلینکس اور اسپتالوں کو اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح بیکریاں، تنور، دودھ کی دکانیں، فیول اور سی این جی پمپس، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز، جم، کھیلوں کی سہولیات، پیڈل کورٹس، آئی ٹی کمپنیوں اور کال سینٹرز کو بھی استثنیٰ حاصل ہوگا۔

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ مذکورہ کفایت شعاری اقدامات سے استثنیٰ کی درخواستوں پر کیس ٹو کیس بنیاد پر غور کیا جائے گا۔ متعلقہ کمیٹی اپنی سفارش وزیراعظم کی منظوری کے لیے پیش کرے گی۔ کمیٹی کی جانب سے دی گئی استثنیٰ کی منظوری کے لیے دوبارہ کسی اور کفایت شعاری کمیٹی سے اجازت درکار نہیں ہوگی۔

نوٹیفکیشن میں صوبائی اور علاقائی حکومتوں کو بھی اسی نوعیت کے کفایت شعاری اقدامات اپنانے پر غور کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں