ایران کے جوہری معاملے کا پائیدار حل مذاکرات اور سفارت کاری ہی سے ممکن ہے، پاکستان
نیویارک: ایران سے متعلق 1737 کمیٹی کے ماہرین کے پینل کے بارے میں مسودۂ قرارداد پر سلامتی کونسل میں ووٹنگ کے حوالے سے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے وضاحتِ ووٹ میں کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاملے کا واحد پائیدار حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ایران کے جوہری معاملے پر محاذ آرائی کے بجائے سفارتی روابط کو ترجیح دینا ہوگی اور تمام حل طلب معاملات پر سنجیدہ اور بامعنی سفارتی روابط فوری طور پر بحال کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری معاملے کو پُرامن ذرائع سے حل کیا جائے اور اس سلسلے میں تمام فریقوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کا احترام لازم ہے۔ علاقائی کشیدگی اور جوہری تنصیبات پر حملوں نے ایران کے جوہری معاملے کے سفارتی حل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ پُرامن مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی کوشش سے کبھی دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔ آئی اے ای اے کو اپنے مینڈیٹ کے مطابق آزادانہ اور سیاسی مداخلت سے پاک ہوکر کام کرنا چاہیے، جبکہ پاکستان ایران کے جوہری معاملے میں آئی اے ای اے کے اہم تکنیکی کردار کی حمایت کرتا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے شدہ وعدوں پر عمل کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں تاکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارت کاری کو موقع دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، جبکہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سفارت کاری کو نتیجہ خیز بنانا وقت کی ضرورت ہے۔