حکمرانوں سے مذاکرات کی حجت تمام ہوگئی، اب 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہوگا، حافظ نعیم الرحمن

حکمرانوں سے مذاکرات کی حجت تمام ہوگئی، اب 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہوگا، حافظ نعیم الرحمن

کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت سے مذاکرات کی حجت تمام ہوگئی، اب 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہوگا، لاکھوں لوگ وفاقی دارالحکومت پہنچیں گے، کارکن تیاریاں تیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے لیے پرامن جمہوری جدوجہد آئینی حق ہے، کوئی طاقت پرامن احتجاج سے نہیں روک سکتی۔

کراچی میں پٹرولیم لیوی کے خلاف جاری دھرنے کے مقام پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ لیاقت بلوچ کی سربراہی میں جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی نے آج حکومت سے تین گھنٹے مذاکرات کیے اور واضح کردیا کہ یا تو حکومت پٹرولیم لیوی ختم کرے یا مذاکرات جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد مارچ کے راستے بند کرکے شہریوں کے لیے مشکلات پیدا نہ کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کنٹینر جماعت اسلامی کا راستہ نہیں روک سکتے، جماعت اسلامی کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کی احتجاجی تحریکیں پرامن رہی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی، لاہور اور پشاور میں جاری دھرنوں کو 32 روز گزر چکے ہیں جبکہ ملک کے دیگر 42 مقامات پر بھی احتجاج اور دھرنے جاری ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جمعہ کو لاہور کے جلسہ عام میں اسلام آباد مارچ کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج عوام کے لیے ہے، اس سے قبل آئی پی پیز کے خلاف بھی دھرنے اور مارچ کیے گئے جس کے نتیجے میں بجلی کے بلوں پر عوام کو ریلیف ملا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو مطالبات پیش کیے گئے ہیں کہ آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں اربوں روپے کی ادائیگیاں بند کی جائیں، حکمرانوں کے زیر استعمال گاڑیوں میں کمی کی جائے، سود کا خاتمہ کیا جائے اور وفاق کی جانب سے صوبائی محکموں کے لیے فنڈز مختص کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔

حافظ نعیم الرحمن نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کے پاس جماعت اسلامی کی تجاویز کا مدلل جواب نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومتیں مخصوص مفادات رکھنے والے گروہوں کو نواز رہی ہیں اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

انہوں نے پنجاب حکومت کی تعلیم اور سرکاری وسائل سے متعلق پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور مختلف دعوے کیے، جن میں سرکاری اسکولوں اور حکومتی طیارے کے استعمال سے متعلق الزامات شامل ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے مریم نواز کے طیارہ استعمال کے معاملے کے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ بھی کیا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں سیاسی و حکومتی نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں