وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا لاہور میں کارکنوں سے خطاب، 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا لاہور میں کارکنوں سے خطاب، 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

لاہور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پنجاب اس وقت شدید گھٹن، جمہوری اقدار کی پامالی اور مبینہ ریاستی جبر کا شکار ہے، موجودہ حکمران عوام کے حقیقی مینڈیٹ سے نہیں آئے۔ مال روڈ لاہور میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں اور اب کوئی طاقت ان کے فیصلے کو تبدیل نہیں کرسکتی۔

سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں شہریوں، کارکنوں اور ان کے خاندانوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں، گھروں پر دھاوے بولے جا رہے ہیں، بچوں کو اغوا اور بے گناہ افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران دو ہزار سے زائد کارکنوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے پنجاب پولیس پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پولیس شہریوں پر تشدد، گرفتاریوں اور ہراساں کرنے میں ملوث ہے۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر ایسی ملازمت میں اپنے ہی لوگوں پر ریاستی تشدد کرنا پڑے تو ایسی ملازمت چھوڑ دیں، رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔

انہوں نے کہا کہ گھروں کی حرمت اور وہاں موجود خواتین کی عزت پامال کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں، جبکہ پنجاب کے عوام کو خوفزدہ کرکے نہیں رکھا جاسکتا۔

سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت میں پنجاب مبینہ طور پر مسلط اور کرپٹ حکمرانوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکمران عوام کے حقیقی مینڈیٹ سے محروم ہیں اور ان کی سیاسی حیثیت عوام کے فیصلے سے ختم ہوچکی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ مریم نواز کی جانب سے یہ کہنا کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان کے تین چھوٹے صوبوں سے خطرہ ہے، انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے بقول وفاقی اکائیوں کو تقسیم کرنے کی کوششیں ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام ایسے حکمرانوں کو دوبارہ منتخب نہیں کریں گے اور وہ وقت قریب ہے جب ملک موجودہ حکمرانوں سے نجات حاصل کرے گا۔

قبل ازیں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرصدارت پنجاب سے تعلق رکھنے والے پارلیمینٹیرینز کا اجلاس بھی ہوا، جس میں لاہور میں عوامی رابطہ مہم جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں سہیل آفریدی نے کہا کہ لاہور کے عوام خود سڑکوں پر نکلے اور انہیں کسی احتجاج کا پلان نہیں دیا گیا تھا۔

اجلاس کے شرکا نے کہا کہ گھروں میں خوف کے ماحول میں رہنے سے بہتر ہے کہ جیل چلے جائیں، پاکستان کے عوام کو خوفزدہ کرکے نہیں رکھا جاسکتا۔ وزیراعلیٰ نے عاشق رسول اشتیاق احمد کی ہلاکت کا معاملہ بھی اٹھایا اور پنجاب پولیس پر ان کے قتل کا الزام عائد کیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس بیان میں فراہم نہیں کی گئی۔

سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ 27 ستمبر کو حقیقی آزادی کی جدوجہد میں کامیابی حاصل کی جائے گی اور پوری قوم گھروں سے باہر نکلے گی۔

اجلاس میں ایم پی ایز اویس ورک، میاں ہارون اکبر، میاں ارقم خان، شیخ امتیاز، ہمبل کریمی، حسن ملک، علی آصف بگا، ایم این اے بریگیڈیئر اسلم گھمن، خرم ورک، معین قریشی، سینیٹر عون بپی اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں