پشاور میں اجتماعی زیادتی کیس کے چار ملزمان ہلاک، پولیس کے مطابق اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے

پشاور میں اجتماعی زیادتی کیس کے چار ملزمان ہلاک، پولیس کے مطابق اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے

پشاور کے نواحی علاقے رحمان بابا میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران اجتماعی زیادتی کیس کے چار زیر حراست ملزمان ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے چاروں ملزمان گزشتہ روز گڑھی موسم خان میں خواتین کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں گرفتار کیے گئے تھے۔ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے اسلحے کی نوک پر اپنے ہمسایہ گھر میں داخل ہو کر خواتین کو مبینہ جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کے مطابق واقعے میں ملوث ملزمان آئس کے نشے میں تھے اور انہیں یقین تھا کہ متاثرہ خاندان انتہائی غریب اور کمزور ہونے کے باعث ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکے گا۔ ملزمان متاثرہ خاندان کو محض کرائے دار سمجھتے ہوئے مبینہ طور پر اپنے اثر و رسوخ کے استعمال کا یقین رکھتے تھے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر گھر میں موجود والد اور اس کے میٹرک کے طالب علم بیٹے کو باندھ دیا تھا، جبکہ ایک کم عمر بچی کو بھی خوفزدہ کیا گیا اور اس کے ساتھ نازیبا حرکت کی کوشش کی گئی۔

واقعے کے بعد متاثرہ خاندان انتہائی خوفزدہ حالت میں پیدل پولیس اسٹیشن پہنچا اور پولیس کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ اطلاع ملتے ہی سی سی پی او پشاور نے فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے اور چار الگ الگ پولیس ٹیمیں تشکیل دے کر ملزمان کی گرفتاری کا ٹاسک دیا گیا۔

پولیس نے راتوں رات کارروائی کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ سی سی پی او کے مطابق ایک ملزم صبح سویرے اپنے ڈیرے پر بے فکر ہو کر نشے میں دھت سویا ہوا تھا اور اسے یقین تھا کہ پولیس اس تک نہیں پہنچ سکے گی، تاہم پولیس نے اسے بھی گرفتار کر لیا جبکہ دیگر تین ملزمان کو بھی فرار ہونے سے پہلے پکڑ لیا گیا۔

سی سی پی او کے مطابق دوران تفتیش ملزمان سے الگ الگ پوچھ گچھ کی گئی اور واقعے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد تحقیقات مزید آگے بڑھائی گئیں۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کو جائے وقوعہ کی نشاندہی اور مزید تفتیش کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ رحمان بابا کے علاقے میں ان کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے دوران چاروں زیر حراست ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہوگئے۔

پولیس کے مطابق حملہ آور ملزمان کو پولیس کی تحویل سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ سی سی پی او کے مطابق ملزمان کو علاقے میں بااثر اور طاقتور تصور کیا جاتا تھا اور بعض افراد کو یقین تھا کہ وہ انہیں پولیس کی گرفت سے چھڑا لیں گے۔

ڈاکٹر میاں سعید احمد نے جرائم پیشہ عناصر کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جرائم کی دنیا سے وابستہ افراد کے پاس واپسی کا راستہ موجود ہے، وہ جرائم چھوڑ کر توبہ کریں، بصورت دیگر قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

#BeeperNews #PeshawarPolice #KhyberPakhtunkhwaPolice #CCOPeshawar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں