بلال غوری کو مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد، جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم
اسلام آباد: سینئر سول جج ملک امان نے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمے میں معروف صحافی، کالم نگار اور سینئر اینکر بلال غوری کو مزید جسمانی ریمانڈ پر دینے کی این سی سی آئی اے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوانے کا حکم دے دیا۔
عدالت میں این سی سی آئی اے کے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ بلال غوری کے مزید سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال اور فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے، اس لیے مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ بلال غوری پانچ روز سے این سی سی آئی اے کی تحویل میں ہیں اور انہیں مزید تحویل میں نہیں رکھا جا سکتا۔
سینئر سول جج ملک امان نے کہا کہ تفتیشی ادارہ بلال غوری کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال جاری رکھ سکتا ہے، تاہم تحقیقات کو فی الحال اسی مقدمے کی حدود تک رکھا جائے۔
بلال غوری کی جانب سے سینئر وکلاء عمران شفیق اور رضا ودود قریشی عدالت میں پیش ہوئے اور ضمانت کی درخواست بھی دائر کر دی گئی۔ عدالت نے درخواست ضمانت پر ریاست کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت پیر کے روز مقرر کر دی۔
بلال غوری سے اظہارِ یکجہتی کے لیے سینئر صحافیوں کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود رہی، جبکہ ٹی وی ٹوڈے کی ٹیم بھی سماعت کے دوران عدالت میں موجود تھی۔ سینئر صحافی محسن رضا خان ڈاکٹر عبدالودود قریشی، اعزاز سید اور اسد علی طور سمیت دیگر صحافیوں نے بھی بلال غوری سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
بلال غوری کو این سی سی آئی اے کی تحویل سے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کر دیا جائے گا، جبکہ ان کی درخواست ضمانت پر پیر کو دلائل ہوں گے۔