پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ کے خلاف درخواست کی سماعت، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھا دیا
اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل نے عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد صوبہ نہیں بلکہ وفاقی ٹیرٹری ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار بنیادی طور پر اسلام آباد تک محدود ہے۔
انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہر صوبے اور اسلام آباد کے لیے الگ ہائیکورٹس قائم کی گئی ہیں، اگر ایک ہائیکورٹ دوسرے صوبوں کے معاملات میں مداخلت کرے گی تو آئین اور 18ویں ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری کا تصور غیرموثر ہو جائے گا۔
ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ درخواست گزار نے بظاہر پورے پاکستان کا دائرہ اختیار اسلام آباد ہائیکورٹ کو دینے کی کوشش کی ہے، جبکہ عدالتی نظیریں واضح کرتی ہیں کہ متعلقہ معاملے کے لیے متعلقہ دائرہ اختیار رکھنے والی عدالت سے رجوع کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے چیف جسٹس کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خود عدالتیں یہ اصول طے کر چکی ہیں کہ ایک صوبے کی ہائیکورٹ دوسرے صوبے کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ شاہ فیصل اتمان خیل نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسا ہی اصول اختیار کیا جائے تو پھر دوسرے صوبوں کی ہائیکورٹس کی ضرورت پر بھی سوال اٹھ سکتا ہے۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کو پہلے متعلقہ چیف کمشنر سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ درخواست میں ایک سیاسی جماعت کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن متعلقہ جماعت کو فریق بنا کر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، حالانکہ آئین کسی شخص یا فریق کو سنے بغیر اس کے خلاف فیصلہ دینے کی اجازت نہیں دیتا۔
چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب شاہ کو روسٹرم پر طلب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ایک بیان سے متعلق سوالات کیے۔ چیف سیکرٹری نے جواب دیا کہ وزیراعلیٰ نے یہ بیان ایک سیاسی جلسے میں دیا تھا اور اس معاملے کا چیف سیکرٹری سے براہ راست تعلق نہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس ڈوگر نے وزیراعلیٰ کے ریاست سے وفاداری کے حلف کا بھی حوالہ دیا، جس پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے نہ پاکستان کی خودمختاری کے خلاف کوئی بیان دیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا اقدام کیا ہے۔
شاہ فیصل اتمان خیل نے عدالت سے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ کے بیانات پر سوالات اٹھانے ہیں تو انہیں باقاعدہ نوٹس جاری کرکے عدالت طلب کیا جائے اور انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔
انہوں نے مختلف سیاسی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے خیبرپختونخوا سے متعلق بیان اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے بیانات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے مطابق یہ معاملہ قانونی سے زیادہ سیاسی نوعیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
سماعت کے دوران چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور آئی جی سے بھی اسلام آباد کی جانب کسی ممکنہ پیش قدمی نہ ہونے سے متعلق بیان حلفی طلب کیے جانے کا معاملہ زیر بحث آیا۔