بروکلین میں 64 ملین ڈالر میڈیکیڈ فراڈ: زکیہ خان کو 76 ماہ قید، کروڑوں ڈالر کی واپسی اور اثاثے ضبط کرنے کا حکم

بروکلین میں 64 ملین ڈالر میڈیکیڈ فراڈ: زکیہ خان کو 76 ماہ قید، کروڑوں ڈالر کی واپسی اور اثاثے ضبط کرنے کا حکم

امریکی ریاست نیویارک کے علاقے بروکلین کی وفاقی عدالت نے 9 ستمبر 2026 کو زکیہ خان کو 64 ملین ڈالر کے میڈیکیڈ فراڈ اور غیر قانونی کک بیکس اسکیم میں مرکزی کردار ادا کرنے پر 76 ماہ قید کی سزا سنا دی۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق وفاقی جج نتاشا سی مرلے نے زکیہ خان کو سزا سناتے ہوئے 56 ملین ڈالر سے زائد رقم بطور Restitution ادا کرنے اور تقریباً 5 ملین ڈالر کے فراڈ سے حاصل شدہ اثاثے ضبط کرنے کا بھی حکم دیا، جن میں دو جائیدادیں، نقد رقم اور سونے کے زیورات شامل ہیں۔

زکیہ خان نے اگست 2025 میں صحت کی دیکھ بھال کے فراڈ کی سازش اور امریکی حکومت کو دھوکہ دینے اور غیر قانونی ہیلتھ کیئر کک بیکس ادا کرنے کی سازش کے جرم کا اعتراف کیا تھا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق زکیہ خان بروکلین کے کونی آئی لینڈ علاقے میں Happy Family Social Adult Day Care Center Inc. اور Family Social Adult Day Care Center Inc. کی مالک تھیں۔ ان کے علاوہ وہ Responsible Care Staffing Inc. نامی ہوم ہیلتھ کیئر فِسکل انٹرمیڈیٹری اور فراڈ کی رقم وصول اور چھپانے کے لیے استعمال ہونے والی Tanwee Services Inc. سے بھی منسلک تھیں۔

تحقیقات کے مطابق اکتوبر 2017 سے جولائی 2024 تک میڈیکیڈ وصول کنندگان کو غیر قانونی نقد ادائیگیوں، رشوت اور کک بیکس کے ذریعے ان مراکز سے منسلک کیا گیا، جبکہ ایسی خدمات کے لیے میڈیکیڈ کو بل بھیجے گئے جو مبینہ طور پر فراہم نہیں کی گئیں۔ دونوں ڈے کیئر مراکز نے تقریباً 64 ملین ڈالر کے فراڈ پر مبنی بل جمع کرائے، جن کی بنیاد پر میڈیکیڈ نے تقریباً 56 ملین ڈالر ادا کیے۔

اس کیس کی تحقیقات HHS-OIG، Homeland Security Investigations اور نیویارک پولیس نے کیں اور تفتیش کے دوران خفیہ ریکارڈنگز اور دیگر شواہد بھی حاصل کیے گئے۔

اہم تصحیح: آپ کے فراہم کردہ متن میں زکیہ خان کی امریکی شہریت منسوخ ہونے اور سزا مکمل ہونے کے بعد انہیں امریکہ بدر کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم امریکی محکمہ انصاف کے 9 ستمبر 2026 کے سرکاری اعلامیے میں نہ ان کی امریکی شہریت کی تصدیق موجود ہے اور نہ شہریت منسوخی یا ملک بدری کا کوئی حکم۔ اس لیے تصدیق کے بغیر یہ بات خبر میں شامل کرنا درست نہیں ہوگا۔ اسی طرح پاکستانی امریکن کمیونٹی کی دیگر تنظیموں کے خلاف وسیع تحقیقات اور مستقبل میں کارروائی کے دعوے بھی سرکاری ثبوت کے بغیر شامل نہیں کیے جانے چاہییں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں