اسلام آباد میں شیشہ کیفوں پر تاحکمِ ثانی پابندی
اسلام آباد ہائیکورٹ کی سرزنش کے بعد ضلعی انتظامیہ کا بڑا اقدام، این او سی رکھنے والے کیفے بھی پابندی کی زد میں
اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہر میں شیشہ کیفوں کی موجودگی اور این او سی کی خلاف ورزی کرنے والے کیفوں کے خلاف کارروائی سے متعلق تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے شیشہ کیفوں کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ “آپ کے کاروبار کا بہت احترام ہے مگر پورے کا پورا شہر تباہ نہ کریں، ایسا نہ ہو کہ کل آپ کا بھائی یا گھر والا کوئی شخص اس کا شکار ہوجائے۔”
عدالت نے شیشہ کیفوں میں تمباکو کے ساتھ دیگر منشیات کے استعمال کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر تمباکو کے ساتھ چرس ملا دی جائے تو اسے بھی سموکنگ ہی کہا جائے گا۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ کھلی جگہوں پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور اس طرح نسلوں کو تباہی کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔
سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے بعد شیشہ کیفوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور بعض افراد کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کی گئیں۔ ان کے مطابق کارروائی کے دوران 14 اور 15 سال کے بچے اور بچیاں بھی بعض مقامات پر پائے گئے۔
شیشہ کیفوں پر مکمل پابندی
اسلام آباد ہائیکورٹ کی سماعت کے بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے شہر میں شیشہ کیفے چلانے پر تاحکمِ ثانی مکمل پابندی عائد کردی ہے۔ تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق:
* پابندی این او سی رکھنے والے شیشہ کیفوں پر بھی لاگو ہوگی۔
* ان ڈور اور آؤٹ ڈور دونوں مقامات پر شیشہ چلانے کی ممانعت ہوگی۔
* خلاف ورزی کی صورت میں کیفے سیل کردیا جائے گا۔
* کیفے کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔
* اسسٹنٹ کمشنرز کو شیشہ کیفوں کی روزانہ کی بنیاد پر انسپکشن اور بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔