ایشیا پیسیفک میڈیا فورم: خطے میں پائیدار ترقی کے لئے چینی طرز کی جدیدیت ناگزیر قرار

ایشیا پیسیفک میڈیا فورم: خطے میں پائیدار ترقی کے لئے چینی طرز کی جدیدیت ناگزیر قرار

شین زین (شِنہوا) ایشیا پیسیفک میڈیا فورم میں شریک افراد نے کہا ہے کہ ایشیا پیسیفک خطہ زیادہ ڈیجیٹل، ذہین اور ماحول دوست مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے، ایسے میں چینی طرز کی جدیدیت خطے اور اس سے باہر نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔

اپیک’’چائنہ ایئر‘‘ کے اہم پروگراموں میں شامل یہ فورم چین کے جنوبی شہر شین زین میں منعقد ہوا جس میں 40 سے زائد ممالک اور خطوں کے 400 سے زیادہ نمائندوں کے علاوہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اپیک 2026 کے میزبان ملک چین نے رواں سال کی تقریب کا موضوع ’’مشترکہ خوشحالی کے لئے ایشیا بحرالکاہل برادری کی تعمیر‘‘ رکھا ہے۔

پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل سعید احمد نے کہا کہ ’’ایشیا بحرالکاہل برادری باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی، مشترکہ خوشحالی اور ثقافتی تنوع پر مبنی شراکت داری ہے۔ یہ محض ایک جغرافیائی تصور نہیں بلکہ استحکام، اقتصادی ترقی اور انسانی پیش رفت کی مشترکہ امنگوں سے جڑی برادری ہے۔‘‘

دنیا کی ایک تہائی آبادی کا مسکن ایشیا پیسیفک خطہ عالمی اقتصادی پیداوار کا 60 فیصد سے زیادہ اور عالمی تجارت کا تقریباً نصف حصہ رکھتا ہے، جس کی وجہ سے یہ عالمی اقتصادی ترقی کا ایک اہم محرک ہے۔

تھائی چائنیز جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر کامپھول مہان کول نے کہا کہ ایشیا پیسیفک کا معجزہ کوئی تاریخی اتفاق نہیں بلکہ کھلے پن، عملی تعاون اور باہمی احترام کے لئے اجتماعی عزم کے ذریعے تشکیل پایا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار چائنہ-امریکہ سٹڈیز کے ریذیڈنٹ سینئر فیلو سورابھ گپتا نے کہا کہ ’’ایشیا کا عروج ایک خوش آئند امر ہے۔ یہ نہ صرف ایشیا پیسیفک بلکہ عالمی معیشت کے لئے بھی ایک متحرک انجن فراہم کرنے میں مدد دے رہا ہے۔‘‘

پاکستان کی وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ شذرہ منصب علی خان کھرل نے کہا کہ ’’ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کی راہ جبر کے بجائے تعاون، دیواروں کے بجائے آزاد تجارت اور تقسیم کے بجائے مکالمے سے ہو کر گزرتی ہے۔‘‘

کھلا پن، اختراع اور تعاون اپیک ’’چائنہ ایئر‘‘ کے 3 بنیادی ستون ہیں۔ شرکاء نے کہا کہ یہ اپیک کی معیشتوں کی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں اور ان پر مزید توجہ مرکوز کرنے سے علاقائی اختراع اور اقتصادی انضمام کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔

ویتنام اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے ماتحت انسٹی ٹیوٹ فار ایشیا پیسیفک سٹڈیز کی پرنسپل محقق نگوین ہا پھونگ نے کہا کہ ’’ایک خوشحال اور مستحکم ایشیا پیسیفک کے لئے ضروری ہے کہ بیرونی حالات زیادہ مشکل ہونے کے باوجود معیشتیں تجارت، سرمایہ کاری اور مکالمے کے راستے کھلے رکھیں۔ ایک کھلا اور باہم مربوط خطہ کاروباری اداروں کو منڈیوں، سپلائرز اور لاجسٹکس نیٹ ورکس میں تنوع پیدا کرنے کے لئے مزید مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔‘‘

کوریا جونگ آنگ ڈیلی کے چائنہ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ یو سانگ چھول نے کہا کہ شین زین نے یہ دکھایا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے خودکار گاڑیوں اور ڈرون کے ذریعے ترسیل کی خدمات کو مثال کے طور پر پیش کیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ چین مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں عالمی سطح پر اختراع کی قیادت کر رہا ہے، جبکہ اپنی جدیدیت کی مہم میں ڈیجیٹل اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کو یکجا کر رہا ہے، جو ایشیا بحرالکاہل کی دیگر معیشتوں کے لئے قیمتی تجربہ اور نئے مواقع فراہم کر رہا ہے۔

اپیک ’’چائنہ ایئر‘‘ میں پیش رفت کے ساتھ رکن معیشتوں نے غذائی تحفظ، ماہی گیری و بحری امور اور توانائی جیسے شعبوں میں عملی تعاون بڑھا دیا ہے۔

چلی کے روزنامہ ’لا ترسیرا‘ کے جنرل قونصل فلپ کواڈرا نے کہا کہ ایشیا پیسیفک تعاون نے چلی کے لئے وسیع نئے مواقع پیدا کئے ہیں اور لاطینی امریکہ کو بیرونی جھٹکوں کا بہتر مقابلہ کرنے کے لئے متنوع اور قابل اعتماد شراکت داروں کی ضرورت ہے۔

اپیک ’’چائنہ ایئر‘‘ چین کے 15 ویں 5 سالہ منصوبے (2026-2030) کے پہلے سال کے ساتھ موافق ہے۔ اس نئے تاریخی موڑ پر چین اصلاحات کو مزید گہرا کر رہا ہے اور اعلیٰ معیار کے کھلے پن کو فروغ دے رہا ہے، جس کے ذریعے اپنی جدیدیت کے راستے سے ایشیا پیسیفک اور اس سے باہر کے خطوں کے لئے نئے مواقع پیدا کئے جا رہے ہیں۔

ہانگ کانگ-ژوہائی-مکاؤ پل کا دورہ کرنے کے بعد پیرو کی خبر رساں ایجنسی ’انڈینا‘ کے ڈائریکٹر جنرل فیلکس پاز کوئروز نے سمندر کے اوپر قائم اس رابطہ پل کو انجینئرنگ کا ایک شاہکار قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس دورے نے انہیں پیرو کی چنکائے بندرگاہ کی یاد دلائی جو ایک اور اہم ٹرانسپورٹ مرکز ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین کے تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے اس بندرگاہ کو لاطینی امریکہ اور ایشیا کو ملانے والے ایک اہم دروازے کے طور پر ترقی دی جا سکے گی۔

حالیہ برسوں میں چین نے اپنے ادارہ جاتی اصلاحات کے ثمرات دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی بانٹے ہیں۔

چین نے جنوب میں اپنے آزاد تجارتی زونز کے آزمائشی منصوبوں میں توسیع اور ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ کو آگے بڑھانے سے لے کر تعلیم، مالیات اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبوں کو مزید کھولنے تک اپنے قواعد و ضوابط، انتظامی طریقہ کار اور معیارات کو بین الاقوامی طریقوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ادارہ جاتی کھلے پن کو مسلسل آگے بڑھایا ہے۔

میکسیکو کے ایم پی وی میڈیا کے ڈائریکٹر ڈیاگو روزارین نے چین کو گزشتہ 4 دہائیوں کے دوران گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لئے تحریک کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا جو ان کی ترقی کے لئے قیمتی تجربہ فراہم کر رہا ہے۔

چین کے مسلسل کھلے پن کے ساتھ اس کی یکطرفہ ویزا فری پالیسیوں کا دائرہ مزید ممالک تک پھیل گیا ہے، جبکہ ’’چائنہ ٹریول‘‘ اور ’’چائنہ شاپنگ‘‘ جیسے موضوعات بھی آن لائن تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

روسی اخبار ’روسیسکایا گزیٹا‘ کے نائب مدیر اعلیٰ ایوان سینیچکن نے کہا کہ لوگوں اور اشیاء کی بڑھتی ہوئی آمدورفت چینی طرز کی جدیدیت سے پیدا ہونے والے مواقع کے ذریعے مشترکہ ترقی کے حصول کے لئے اپیک معیشتوں کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں