یاسین ملک کا بھارتی نظامِ انصاف پر عدم اعتماد، سری نگر عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع

یاسین ملک کا بھارتی نظامِ انصاف پر عدم اعتماد، سری نگر عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع

سری نگر: ممتاز کشمیری رہنما اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک نے بھارتی نظامِ انصاف پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بھارتی عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں، حتیٰ کہ عدالت سزائے موت بھی عائد کرے تو وہ اسے کشمیر کے لیے قبول کریں گے۔

یاسین ملک نے سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرایا، جس میں انہوں نے اپنا مقدمہ مزید لڑنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں۔ ان کے 24 اگست کے تحریری بیانات کو بھی شہادت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

یاسین ملک نے 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزام کی دوٹوک تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں سرلا بھٹ کی لاش کے قریب ملنے والے مبینہ جے کے ایل ایف نوٹ کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا، تاہم بعد ازاں ریکارڈ سے اس نوٹ کی عدم موجودگی پر بھی انہوں نے سوالات اٹھائے۔

حلف نامے میں یاسین ملک نے کہا کہ سرلا بھٹ کے قتل سے 11 روز قبل وہ شدید زخمی تھے، اس لیے قتل کی منصوبہ بندی یا اس حوالے سے ہدایات دینا ممکن نہیں تھا۔

ان کے مطابق بھارتی ایجنسیوں نے ماضی میں انہیں پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کرنے کو کہا، لیکن بعد میں اسی رابطے کو ان کے خلاف بطور ثبوت پیش کیا گیا۔ یاسین ملک نے دعویٰ کیا کہ واجپائی حکومت کے دور میں اجیت دوول، برجیش مشرا اور آر کے مشرا نے انہیں پاک بھارت تعلقات میں مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دی تھی۔

یاسین ملک نے مزید الزام عائد کیا کہ 2019 اور 2024 کے بھارتی انتخابات کے دوران پاکستان مخالف سیاسی بیانیے کے لیے ان کا نام، تصویر اور عدالتی کارروائیوں کو استعمال کیا گیا۔

انہوں نے سیاسی انتقام کے خلاف احتجاجاً مزید مقدمہ نہ لڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزا کو قبول کرنا جرم کا اعتراف نہیں ہوگا۔ ان کے بقول عدالت اگر انہیں سزائے موت بھی دیتی ہے تو وہ اسے کشمیر کے لیے قبول کریں گے۔

حلف نامے میں یاسین ملک نے طویل قید، تنہائی اور اپنی والدہ، اہلیہ مشعال ملک اور بیٹی سے برسوں کی جدائی کا بھی ذکر کیا۔

یاسین ملک نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کو بھی اپنی رفاقت سے آزاد کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ مشعال ملک طویل قید اور ممکنہ پھانسی کے انتظار کی زندگی گزارنے پر مجبور رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں