نوائے وقت کی تاریخ کا تاریک باب جب عارف نظامی کو ادارے سے بے دخل کیا گیا دو خواتین رمیزہ نظامی اور شیریں مزاری کا بطور پبلشر اور ایڈیٹر دی نیشن بھی اسی اعلان کا حصہ بنا

نوائے وقت کی تاریخ کا تاریک باب جب عارف نظامی کو ادارے سے بے دخل کیا گیا

دو خواتین رمیزہ نظامی اور شیریں مزاری کا بطور پبلشر اور ایڈیٹر دی نیشن بھی اسی اعلان کا حصہ بنا

نوائے وقت کی تاریخ کا بظاہر روشن باب جب دو خواتین کو بالترتیب پرنٹر/ پبلشر اور ایڈیٹر مقرر کیا گیا مگر بعد میں ثابت ہوا کہ یہ روشن نہیں بلکہ تاریک باب تھا کیونکہ اس فیصلے کے ساتھ ہی ایک کہنہ مشق مدیر اور نہایت باصلاحیت صحافی جناب عارف نظامی کو سبکدوشی کے نام پر نوائے وقت گروپ سے بے دخل کر دیا گیا جو ان کے والد گرامی حمید نظامی کا ورثہ تھا۔۔

اگرچہ عارف نظامی نے اپنے چچا مجید نظامی کے حوالے سے عوامی سطح پر کبھی کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا مگر وہ عدالت میں مقدمہ بھی لڑتے رہے اور اپنا اخبار بھی نکالا اور پھر چند برس بعد یہ غم لے کر دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔

زیر نظر تصویر آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے ترجمان ” پرنٹ میڈیا” کی 2009 کی اشاعت کی ہے۔تب مجیب الرحمن شامی اے پی این ایس کے صدر اور ڈاکٹر جبار خٹک سیکرٹری جنرل تھے۔اس میگزین کے صفحہ نمبر آٹھ پر یہ اعلان شائع کیا گیا کہ روزنامہ نوائے وقت اور دی نیشن گروپ کی انتظامیہ نے رمیزہ مجید نظامی کو گروپ کی پبلشر اور پرنٹر مقرر کر دیا ہے جبکہ جناب مجید نظامی گروپ اخبارات کے بدستور چیف ایڈیٹر رہیں گے۔۔

اسی طرح دوسرا اعلان ڈاکٹر شیریں مزاری کو انگریزی اخبار “دی نیشن” کا ایڈیٹر مقرر کرنے سے متعلق ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ نوائے وقت میڈیا گروپ کے مینیجنگ ڈائریکٹر مجید نظامی نے عارف نظامی کو دی نیشن کی ادارتی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا ہے۔

#Sahafatbeeti #ArifNizami #Nawaiwaqat

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں