اٹک میں دریائے سندھ کے ریتلے علاقوں میں مبینہ پلیسر گولڈ کے ذخائر ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جبکہ غیر قانونی گولڈ مائننگ کے خلاف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔
تھانہ انجراء پولیس نے ایس ایچ او سب انسپکٹر امجد علی خان کی سربراہی میں غیر قانونی گولڈ مائننگ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ کارروائی کے دوران رکھوان، تحصیل جنڈ سے تعلق رکھنے والے تین افراد شوکت علی خان، وقاص احمد اور عبدالکریم کو گرفتار کیا گیا، جبکہ غیر قانونی مائننگ میں استعمال ہونے والے آلات بھی قبضے میں لے لیے گئے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے عدالت سے ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
دریائے سندھ میں سونے کے ذرات کی موجودگی کا دعویٰ
دریں اثناء اٹک کے مقام پر دریائے سندھ اور دریائے کابل کے سنگم کے قریب ریت اور بجری میں سونے کے باریک ذرات کی موجودگی کے دعوے ایک مرتبہ پھر زیر بحث آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پہاڑی علاقوں سے بہہ کر آنے والے معدنی ذرات دریائی نظام کے ذریعے نچلے علاقوں تک پہنچتے ہیں اور بعض مقامات پر ریت اور بجری میں قیمتی معدنیات جمع ہوسکتی ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں سونے کے ذخائر کی حقیقی مقدار اور معاشی اہمیت کا حتمی تعین جامع جیولوجیکل سروے، سائنسی پیمائش اور فزیبلٹی اسٹڈی کے بعد ہی ممکن ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سونے کے ذخائر سے متعلق دعوے سائنسی سروے میں درست ثابت ہوتے ہیں تو غیر قانونی کھدائی اور معدنی وسائل کی بے قاعدہ نکاسی فوری طور پر روک کر اسے قانونی اور شفاف طریقہ کار کے تحت قومی معیشت کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
اٹک پلیسر گولڈ منصوبہ، 9 بلاکس کے لیے کنسلٹنسی معاہدہ
دستیاب معلومات کے مطابق 25 فروری 2025 کو پنجاب مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ اور نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) کے درمیان اٹک پلیسر گولڈ ڈپازٹس منصوبے کے حوالے سے پیش رفت ہوئی تھی۔
نیسپاک کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق ضلع اٹک میں دریائے سندھ کے کنارے 9 پلیسر گولڈ بلاکس کے لیے بولی کی دستاویزات کی تیاری، کنسلٹنسی سروسز اور ٹرانزیکشن ایڈوائزری سروسز سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔
منصوبے کو پاکستان کے کان کنی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا تھا، جبکہ اس کا مقصد معدنی وسائل کو باقاعدہ اور سائنسی انداز میں بروئے کار لانے کے لیے بنیاد فراہم کرنا تھا۔
تاہم مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں عملی پیش رفت، باقاعدہ ٹینڈرنگ اور قانونی استخراج کے طریقہ کار سے متعلق صورتحال تاحال واضح نہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت پنجاب اور وفاقی حکومت اٹک کے پلیسر گولڈ منصوبے کے حوالے سے پیش رفت، سروے کے نتائج، بلاکس کی تفصیلات اور مستقبل کی پالیسی کے بارے میں عوام، میڈیا اور منتخب نمائندوں کو آگاہ کریں۔
غیر قانونی مائننگ روکنے کے ساتھ قانونی نظام وضع کرنے کا مطالبہ
عوامی حلقوں کے مطابق ایک طرف پولیس غیر قانونی گولڈ مائننگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے اور مشینری قبضے میں لی جا رہی ہے، تاہم دوسری جانب اس معدنی دولت کے سائنسی سروے، قانونی استخراج اور قومی خزانے کے لیے آمدن پیدا کرنے کے حوالے سے حکومتی اقدامات اور پیش رفت سامنے نہیں آ رہی۔
عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ دریائے سندھ کے متعلقہ علاقوں میں جامع جیولوجیکل سروے کرایا جائے، سونے کے حقیقی ذخائر کا تعین کیا جائے اور ماحولیاتی و معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے بعد شفاف لائسنسنگ یا ٹھیکہ داری کا نظام وضع کیا جائے۔
مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اٹک کے دریائی علاقوں میں قابلِ استخراج پلیسر گولڈ کے ذخائر موجود ہیں تو انہیں غیر قانونی مائننگ کی نذر ہونے سے بچا کر قانونی طریقے سے قومی معیشت کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ اس عمل میں مقامی آبادی کے حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔