پی ٹی سی چوہنگ مبینہ 22 کروڑ روپے اسکینڈل، ڈی جی ایف آئی اے کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ

پی ٹی سی چوہنگ مبینہ 22 کروڑ روپے اسکینڈل، ڈی جی ایف آئی اے کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ

لاہور: پولیس ٹریننگ کالج (پی ٹی سی) چوہنگ میں مبینہ طور پر 22 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کے معاملے پر شہری اشبا کامران نے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب راؤ عبد الکریم اور سیکرٹری وزارت داخلہ احمد رضا سرور کو تحریری درخواست دے دی۔

یکم ستمبر 2026 کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی سی چوہنگ میں سابق کمانڈنٹ ڈی آئی جی محبوب اسلم لِلہ اور ان کے مبینہ نیٹ ورک کے خلاف 22 کروڑ روپے سے زائد کی خوردبرد کی تحقیقات جاری ہیں۔

درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ مبینہ مالی بے ضابطگیاں سابق آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے دورِ کمان میں ہوئیں اور مطالبہ کیا کہ معاملے کی تحقیقات کو شفاف بنانے کے لیے ڈاکٹر عثمان انور کو ڈی جی ایف آئی اے کے عہدے سے ہٹا کر تحقیقات مکمل ہونے تک اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سپرد کیا جائے۔

درخواست میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عثمان انور کو باقاعدہ طور پر جاری انکوائری میں شامل کیا جائے تاکہ مبینہ مالی معاملات، انتظامی نگرانی اور عدم کارروائی کے حوالے سے ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔

اشبا کامران نے آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا کہ تحقیقات میں کسی بھی افسر کو اعلیٰ سطح پر تحفظ یا استثنیٰ دیے بغیر تمام متعلقہ افراد کا بلاامتیاز احتساب یقینی بنایا جائے۔

واضح رہے کہ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق ڈاکٹر عثمان انور ماضی میں پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔

نوٹ: درخواست میں عائد الزامات درخواست گزار کے مؤقف پر مبنی ہیں؛ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق یا کسی عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونا اس خبر میں شامل نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں