خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہنگامہ، ثوبیہ شاہد کی رکنیت دو ہفتوں کے لیے معطل

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہنگامہ، ثوبیہ شاہد کی رکنیت دو ہفتوں کے لیے معطل

پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں کورم کی نشاندہی پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی، جبکہ ڈپٹی اسپیکر نے مسلم لیگ ن کی رکن ثوبیہ شاہد کی رکنیت دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کی رولنگ دے دی۔

اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کی رکن ثوبیہ شاہد نے ایوان میں ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے پر کورم کی نشاندہی کی۔ اس موقع پر حکومتی رکن فضل الٰہی نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، جس پر دونوں ارکان کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی اور اپوزیشن و حکومتی ارکان نے ایک دوسرے کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔

ڈپٹی اسپیکر نے ثوبیہ شاہد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کورم کی نشاندہی کردی ہے، اب بیٹھ جائیں اور تقریر نہ کریں۔ بعد ازاں ایوان میں دو منٹ کا وقفہ کیا گیا اور گھنٹی بجانے کا اعلان کیا گیا۔

صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب حکومتی رکن فضل الٰہی کی جانب سے خاتون رکن کے لیے مبینہ طور پر توہین آمیز جملے استعمال کیے گئے۔ مسلم لیگ ن کی خواتین ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے فضل الٰہی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر نے ثوبیہ شاہد کی رکنیت دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا اور انہیں ایوان سے باہر نکالنے کی ہدایت کردی۔ سارجنٹ ایٹ آرمز کو طلب کیا گیا جبکہ اسمبلی سیکیورٹی اہلکاروں نے ثوبیہ شاہد کو گھیرے میں لے لیا۔

عدنان وزیر کی معذرت، عمران خان کا ذکر

جے یو آئی ف کے رکن عدنان وزیر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پہلے وہ معذرت چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک پارٹی کے لیڈر ہیں اور ان پر اس طرح بات نہیں ہونی چاہیے۔

عدنان وزیر نے کہا کہ ثوبیہ شاہد نے صرف کورم کی نشاندہی کی تھی اور کورم پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایجنڈے کو فوقیت دی گئی لیکن عمران خان کو پیچھے چھوڑ دیا گیا۔

انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے اپنی رولنگ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کل عمران خان کے ساتھ جو زیادتی ہوئی، اس پر بھی بات ہونی چاہیے۔

دوسری جانب صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ ایجنڈا معطل کرنا یا نہ کرنا اسپیکر کا اختیار ہے۔ انہوں نے اپوزیشن ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیڈرز کو جعلی نہیں کہیں گے، مگر ’’کیا کریں، جعلی تو ہے۔‘‘

آفتاب عالم نے ڈپٹی اسپیکر کی کارروائی کو درست قرار دیتے ہوئے ثوبیہ شاہد کے خلاف مزید سخت کارروائی کی تجویز بھی دی۔

اپوزیشن کا حکومت پر غیر سنجیدگی کا الزام

قائد حزب اختلاف خیبرپختونخوا اسمبلی ڈاکٹر عباد اللہ خان نے ڈپٹی اسپیکر کے اپوزیشن کے ساتھ رویے کو نامناسب اور قابل مذمت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت پر بحث کے دوران بھی ایوان میں ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہوسکی، جس سے حکومت کی غیر سنجیدگی عیاں ہوگئی ہے۔

ڈاکٹر عباد اللہ خان کے مطابق پارلیمان کو سنجیدگی سے چلانا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، محض اجلاس بلانا کافی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت جیسے اہم معاملے پر حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ایوان میں ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عمران خان کی صحت پر بات کے لیے اجلاس کا ایجنڈا معطل کیا گیا، لیکن حکومتی ارکان کی تعداد ہی پوری نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی اجلاس پر قومی خزانے سے خطیر رقم خرچ ہوتی ہے، ارکان کی عدم موجودگی عوام کے پیسے کا ضیاع ہے۔ حکومت کو اپنی عددی قوت یقینی بنانی چاہیے اور عوامی مسائل پر بحث کے لیے ارکان کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔

ڈاکٹر عباد اللہ خان نے مزید کہا کہ اجلاس میں ارکان کی تعداد کی نشاندہی کرنا اپوزیشن اور حکومتی ارکان کا حق ہے، اس جائز پارلیمانی حق کو دبانے کی کوشش کسی صورت قابل قبول نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں