ایران کا امریکا پر اقتصادی دباؤ کا الزام، عراقچی کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلیفونک رابطہ
تہران: ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکا کے نام نہاد ’’اکنامک ڈی ڈے‘‘ کو امریکا کے اپنے معاشی بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عراقچی نے کہا کہ امریکا کا بے مثال قرض اور بڑھتے ہوئے سودی اخراجات اس کے اپنے بڑے معاشی مسائل ہیں۔ ان کے مطابق ناکام پالیسیوں کو مزید آگے بڑھانے سے امریکا کو مزید شکست اور ایرانی عوام میں مزید نفرت کا سامنا ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی اقتصادی اقدامات کو ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی معیشت اور دنیا بھر میں ریاستوں کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بدھ کی شب پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ ایرانی اور پاکستانی ذرائع کے مطابق گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال، سلامتی و استحکام اور سیاسی و سفارتی حل کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ادھر ایرانی اسٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سیکریٹری جلال دہقانی فیروزآبادی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ان کے مطابق قطر اور پاکستان جیسے ثالث ممالک دونوں جانب پیغامات پہنچا رہے ہیں۔
پاکستان اس سے قبل بھی ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں سہولت کاری کرتا رہا ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں اسلام آباد اور دوحہ کے ذریعے بیک چینل رابطوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔