تھانہ صدر اٹک میں ڈی پی او کی کھلی کچہری، میڈیا کوریج پر پابندی سوالات کی زد میں
اٹک : ڈی پی او اٹک کیپٹن علی بن طارق نے تھانہ سٹی حسن ابدال کے بعد تھانہ صدر اٹک میں دوسری کھلی کچہری کا انعقاد کیا، تاہم اس کھلی کچہری کی میڈیا کوریج پر پابندی کے باعث معاملہ سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
ترجمان اٹک پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پر باقاعدہ تحریری طور پر آگاہ کیا گیا تھا کہ کھلی کچہری کی میڈیا کوریج کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ کچہری کے اختتام پر پی آر او آفس کی جانب سے تصاویر اور ویڈیو فوٹیج جاری کرنے کا کہا گیا تھا۔
تاہم کھلی کچہری کے اختتام کے تقریباً نو گھنٹے گزرنے کے باوجود اٹک پولیس کے پی آر او آفس کی جانب سے نہ تو کوئی باقاعدہ خبر جاری کی گئی اور نہ ہی تصاویر یا ویڈیو فوٹیج سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے مختلف سوالات اور آرا کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل تھانہ سٹی حسن ابدال میں منعقدہ کھلی کچہری کے دوران ڈی پی او اٹک کی جانب سے ایس ایچ او تھانہ سٹی حسن ابدال اور ڈی ایس پی حسن ابدال کی مبینہ طور پر سرزنش کی ویڈیو سامنے آئی تھی، جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ حسن ابدال کی کھلی کچہری کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد تھانہ صدر اٹک میں میڈیا کوریج پر پابندی عائد کیے جانے سے مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے پولیس حکام کی جانب سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور پولیس و عوام کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا ہے، اس لیے ایسے پروگراموں میں میڈیا کو مناسب رسائی اور شفاف کوریج کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ میڈیا کوریج پر پابندی کی اصل وجہ اور نو گھنٹے گزرنے کے باوجود سرکاری تصاویر، ویڈیو یا تفصیلی خبر جاری نہ کیے جانے کے معاملے پر اٹک پولیس کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔