برسلز: بھارت جموں و کشمیر پر قبضہ ختم کرے، کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیا جائے، علی رضا سید

برسلز: کشمیر کونسل یورپی یونین کے چیئرمین علی رضا سید نے کہا ہے کہ 15 اگست بھارت کا یومِ آزادی ہے، تاہم کشمیری عوام کے لیے یہ دن یومِ سیاہ اور یومِ احتجاج کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور وہاں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے۔

یومِ سیاہ کے موقع پر اپنے پیغام میں علی رضا سید نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے محکومی، سیاسی پابندیوں اور ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 15 اگست کو یومِ سیاہ منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کی جانب مبذول کرانا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کرنے کے بجائے اس کے پائیدار اور پرامن حل کے لیے بامعنی کوششیں کرے۔

علی رضا سید نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کی جائیں اور بھارتی جیلوں میں قید کشمیری سیاسی رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔

چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے کہا کہ کشمیری عوام کے بنیادی، سیاسی، انسانی اور جمہوری حقوق کا تحفظ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ ختم کرے اور کشمیری عوام کو ان کے حقِ خودارادیت کا حق دے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، اس لیے عالمی برادری کو اس دیرینہ مسئلے کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس موقع پر ورلڈ کشمیری ڈائس پورہ الائنس یورپ کے صدر چوہدری خالد جوشی نے بھی عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق اور حقِ خودارادیت کو تسلیم کیے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

علی رضا سید نے واضح کیا کہ کشمیر کونسل ای یو یورپ میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنی پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی اور عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں