ت 2019 اور 27 اکتوبر 1947 ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین دن ہیں: سید یوسف نسیم
ایڈووکیٹ
آل جموں و کشمیر پیپلز فریڈم کانفرنس کے چیئرمین اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سابق کنوینر، سید یوسف نسیم ایڈووکیٹ
نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ 27 اکتوبر 1947 اور 5 اگست 2019 ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین دن
ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر صدیوں سے ایک منفرد تاریخی، جغرافیائی اور سیاسی حیثیت رکھنے والی
وحدت کے طور پر موجود رہی ہے۔ مزید برآں، 5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ نے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ طریقے سے ح ِق
خود ارادیت کے ذریعے جموں و کشمیر کے عوام کے اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کے حق کو تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بھارت ریاست جموں و کشمیر کے دو تہائی حصے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے، جس
کے باعث تقریباً دو کروڑ افراد اپنے تسلیم شدہ ح ِق خود ارادیت سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق، 5 اگست 2019 کو بھارت نے
ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی، اسے مرکز کے زیر انتظام علقوں میں تقسیم کر دیا اور اس کی آئینی حیثیت
میں تبدیلی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات سے ریاست کی تاریخی شناخت، سیاسی تشخص اور ثقافتی ورثہ متاثر
ہوا اور ان کے نقطۂ نظر کے مطابق یہ اقدامات بین القوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے مطابقت نہیں
رکھتے۔
سید یوسف نسیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ریاست کے
عوام اپنے تسلیم شدہ ح ِق خود ارادیت کو استعمال کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کو یہ جائز
اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسری قوم کو اس کی آزادی سے محروم کرے، طاقت کے استعمال کے ذریعے کسی متنازعہ
علقے کی حیثیت تبدیل کرے یا بین القوامی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حقوق اور قانونی اصولوں کو نظر انداز کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کا ہر خطہ اور اس کے عوام اپنے وطن کے مستقبل کے لیے جدوجہد کے عزم پر قائم ہیں۔
ان کے مطابق عوام کی امنگوں کی حقیقی ترجمانی ہونی چاہیے، جبکہ بنیادی مسئلہ بدستور جموں و کشمیر کے عوام کا اپنے
سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق ہے۔
انہوں نے عالی برادری، اقوام متحدہ، اسلمی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور بین القوامی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور
دیا کہ وہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، انسانی حقوق کے تحفظ میں فعال کردار ادا کریں اور
ایسے حالت پیدا کرنے میں مدد دیں جن میں ریاست کے عوام متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے سیاسی
مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کو استعمال کر سکیں۔
سید یوسف نسیم ایڈووکیٹ نے جموں و کشمیر کے عوام کے لیے پاکستان کی حکومت اور عوام کی مسلسل سیاسی، اخلقی
اور سفارتی حمایت اور بین القوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کشمیری 5 اگست کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالی برادری کی توجہ جموں و
کشمیر کے تنازع کے پرامن، منصفانہ اور پائیدار حل کی ضرورت کی جانب مبذول کرائی جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ
کیا کہ عوام کے ح ِق خود ارادیت کے حصول کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یہ حق حاصل
نہیں ہو جاتا۔