بریکنگ نیوز
ہری پور میں مشترکہ آپریشن، متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب خطرناک اشتہاری ضرغام اللہ اپنے والد سمیت ہلاک

ہری پور: ہری پور پولیس، ایلیٹ فورس اور سی سی ڈی اٹک نے تھانہ کھلابٹ کی حدود ڈھینڈہ بائی پاس، چونگی نمبر 3 کے قریب مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کے دوران متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم ضرغام اللہ مبینہ پولیس مقابلے میں اپنے والد خالد محمود خان سمیت ہلاک ہوگیا۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر شدید فائرنگ کی، جو دو گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر اپنی فیملی کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی، تاہم اہلکاروں نے تمام اہل خانہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔
آپریشن کے بعد سرچ کے دوران ضرغام اللہ ہلاک پایا گیا، جبکہ اس کے والد خالد محمود خان بھی فائرنگ کے دوران زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئے۔ ملزم کا بھائی عاصم اور ایک اور ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
پولیس کے مطابق ہلاک ملزمان کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ٹراما سینٹر ہری پور منتقل کر دی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ضرغام اللہ قتل، اقدام قتل، اغوا برائے تاوان، دہشت گردی، ڈکیتی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، منشیات اور بچوں سے جنسی زیادتی سمیت درجنوں سنگین مقدمات میں مطلوب تھا اور سی کیٹیگری کا اشتہاری ملزم تھا۔
سی سی ڈی اٹک کے مطابق آپریشن میں شریک تمام اہلکار محفوظ رہے جبکہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
تھانہ صدر اٹک کے گاؤں ماڑی کنجور کا رہائشی اٹک میں خوف اور دہشت کی علامت قتل ، اقدام قتل، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ملک ضرغام اللہ کے پی کے کے ضلع ہری پور میں کھلا بٹ کے مقام پر مبینہ پولیس مقابلے میں اپنے والد ملک خالد محمود خان سمیت ہلاک ،تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی اٹک یاسر مطلوب کیانی کو ملک ضرغام اللہ کی موجودگی کی اطلاع ملی تو سی سی ڈی ٹیم نے کے پی کے کے ضلع ہری پور کے علاقہ کھلا بٹ میں اس کے ٹکارنے پر انٹیلجنس بیسڈ آپریشن کیا، چھاپہ کے دوران ملزم ملک ضرغام اللہ اور اس کے ساتھیوں نے جدید اسلحہ سے سی سی ٹیم پر شدید فائرنگ کر دی دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا حالات کی سنگینی کے پیش نظر بکتر بند گاڑی بھی طلب کی گئی جس میں ملک ضرغام اللہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ فائرنگ کے تبادلہ کے نتیجے میں اس کا والد ملک خالد محمود خان شدید زخمی ہوا جو بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا ذرائع کے مطابق پولیس مقابلے کے دوران ملک ضرغام اللہ نے اپنی فیملی کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی تا ہم سی سی ڈی اٹک کے اہلکاروں نے تمام اہل خانہ کو حفاظت ریسکیو کر لیا جبکہ ملزم کے دیگر ساتھی موقع سے فرار ہو گئے جن کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں ، ملک ضرغام اللہ کے خلاف قتل ،اغوا برائے تاوان، اقدام قتل، بھتہ خوری ،منشیات اور بچوں سے زیادتی سمیت درجنوں سنگین مقدمات درج تھے وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھا اور سے کیٹیگری اشتہاری تھا۔ اس مقابلے میں سی سی ڈی اٹک کے تمام اہلکار محفوظ رہے۔
*ہری پور پولیس اور سی سی ڈی اٹک کا مشترکہ آپریشن۔*
اغواء برائے تاوان، دہشت گردی، ڈکیتی ، ٹارگٹ کلنگ ،جنسی ذیادتی اور بھتہ خوری کے سنگین نوعیت کے متعدد مقدمات میں مطلوب خطرناک دہشت گرد ضرغام اللہ اپنے باپ سمیت ہلاک
ہری پور پولیس اور سی سی ڈی اٹک نے تھانہ کھلابٹ کی حدود ڈھینڈہ بائی پاس نزد چونگی نمبر 3 میں مشترکہ آپریشن کیا۔آپریشن میں ہری پور پولیس، ایلیٹ فورس اور سی سی ڈی اٹک کے افسران و جوانوں نے حصہ لیا۔
دورانِ آپریشن قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب اور خطرناک دہشت گرد ضرغام نے اپنے دیگر ساتھیوں گرفتاری سے بچنے کے لیے فائرنگ کی،فائرنگ کا سلسلہ دو گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا ۔ فیملی کو بحفاظت بازایاب کیا گیا ۔ فائرنگ کا سلسلہ رکنے پر دروان سرچ آپریشن خطرناک دہشت گرد ضرغام ولد خالد محمود خان سکنہ اٹک جوابی کاروائی میں ہلاک پایا گیا ۔جبکہ اور خالد محمود خان ولد جان بہادر سکنہ محلہ شرقی ماڑی کنجور ،اٹک عاصم ولد خلاد محمود خان کی فائرنگ سے ہلاک ہوا ۔ جبکہ ملزمان میں عاصم ولد خالد محمود خان اپنے دیگر ساتھی کے ساتھ بھاگ نکلے ۔ آپریشن کے دوران علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ہلاک ملزمان کی لاشیں برائے پوسٹمارٹم ٹرامہ سنٹر ہری پور منتقل کیں ۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ۔
سی سی ڈی اٹک سے کھلا بٹ ہری پور میں اڑھائی گھنٹے مقابلہ کے بعد انتہائی مطلوب ملزم زرغام ہلاک ہو گیا،ملزم نے جدید ہتھیاروں سے چھاپہ مار ٹیموں پر فائرنگ کی اور فیملی کو اپنی ڈھال کے طور پر بھی استعمال کیا،ہلاک ملزم دہشتگردی،قتل،اقدام قتل،بھتہ خوری،بچوں سے زیادتی سمیت سنگین جرائم کے 15 مقدمات میں ملوث اور پولیس کو مطلوب تھا،ملزم دہشت کی علامت تھا جسکے خلاف مقامی افرادپولیس کو شکایت کرنے سے ڈرتے تھے۔مقابلہ کے دوران ملزم کی اہلیہ اور بچوں کو بحفاظت ریسکیو کیا گیا جبکہ موقع سے فرار ملزم کے ساتھیوں کی تلقش کے لئے علاقہ میں سرچ آپریشن جاری ہے
تفتیش کے دوران ملزم کی فیملی کی نشاندہی پر سی سی ڈی نے دو ہفتے قبل اغواء کی گئی خاتون کو زرغام کے دوسرے گھر سے بازیاب کروا لیا،خاتون کے اغواء کا مقدمہ تھانہ سٹی اٹک میں مغویہ کے والد کی مدعیت میں درج ہے