بلوچستان میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

بلوچستان میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

کوئٹہ، 12 ستمبر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، جبکہ اس معاملے پر سول اور عسکری قیادت مکمل طور پر متفق اور یکسو ہے اور کسی قسم کا ابہام موجود نہیں۔

انہوں نے ہفتہ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں قومی میڈیا کے اینکرز، سینئر صحافیوں اور دیگر نمائندوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز انتہائی مشکل حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کسی صورت مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے، جس کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

گفتگو سے قبل وزیراعلیٰ کو صوبے کے سماجی و اقتصادی شعبوں، ترقیاتی منصوبوں، معدنیات و کان کنی اور امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزارت منصوبہ بندی و ترقی کی جانب سے گورننس، سروس ڈیلیوری، ترقیاتی فنڈز کے مؤثر استعمال اور منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔

وزارت معدنیات و وسائل کی بریفنگ میں بلوچستان کے معدنی ذخائر، کان کنی کے شعبے کی استعداد اور جاری منصوبوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے معدنی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لا کر عوام کے لیے معاشی فوائد پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

وزارت داخلہ و قبائلی امور نے وزیراعلیٰ کو امن و امان، پروونشل ایکشن پلان، پولیس اصلاحات اور لیویز فورس کے پولیس میں انضمام سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا۔ سیف سٹی منصوبے، متعلقہ قانون سازی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر رابطے پر بھی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے سوالات کے جواب میں کہا کہ کوئٹہ سے بیٹھ کر پورے صوبے کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنا ممکن نہیں، اس لیے انتظامی امور کو زمینی حقائق کے مطابق بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان میں مستقبل میں نئے صوبے بنتے ہیں تو ان کی بنیاد لسانیت کے بجائے انتظامی ضروریات ہونی چاہیے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہیں بلوچستان میں کسی ڈھائی، ڈھائی سالہ حکومتی معاہدے کا علم نہیں۔ ان کے مطابق حکومت میں تبدیلی کا فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے، تاہم جب تک وہ وزیراعلیٰ کے منصب پر موجود ہیں، عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔

کرپشن کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ مکمل خاتمے کا دعویٰ نہیں کرتے، تاہم ماضی کے مقابلے میں صوبے میں کرپشن میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں سمیت تمام سرکاری محکموں میں میرٹ کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے ماضی کے مقابلے میں ریکارڈ مدت میں مکمل کیے گئے ہیں اور صوبائی حکومت کی توجہ ترقیاتی عمل کو مؤثر، نتیجہ خیز اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے پر مرکوز ہے۔

افغان مہاجرین اور دیگر غیر ملکی شہریوں کی واپسی سے متعلق وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان سے 11 لاکھ افغان مہاجرین سمیت دیگر غیر ملکیوں کو ان کے وطن واپس بھیجا گیا ہے۔

لاپتہ افراد کے معاملے پر میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس مسئلے کو بعض اوقات قومی میڈیا اور دیگر فورمز پر درست تناظر کے بغیر پیش کیا جاتا ہے، جس سے صورتحال کی مکمل اور درست تصویر سامنے نہیں آتی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ترجیح امن و امان کی بہتری، دہشت گردی کا خاتمہ، مؤثر حکمرانی، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور بلوچستان کے عوام کو ریاستی وسائل کے حقیقی ثمرات کی فراہمی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں