بریکنگ نیوز
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال مزید کشیدہ، نوشکی میں 31 جولائی تک کرفیو نافذ، دالبندین اور چاغی میں بھی کرفیو کا امکان
کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف اضلاع میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیشِ نظر ضلع نوشکی میں 31 جولائی رات 8 بجے تک کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ کرفیو کے باعث شہر کی تمام مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکیں سنسان دکھائی دے رہی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق اچانک کرفیو نافذ ہونے سے شہریوں کو اشیائے خوردونوش، ادویات اور پینے کے صاف پانی کی قلت کا خدشہ ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ روزانہ دو سے تین گھنٹے کے لیے کرفیو میں نرمی دی جائے تاکہ ضروری اشیاء کی خریداری اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اکاؤنٹس میں منتقل ہو چکی ہیں، تاہم بینک اور مالیاتی ادارے بند ہونے کے باعث ملازمین رقم نہیں نکال پا رہے۔
دوسری جانب رخشان ڈویژن میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث ضلع چاغی کے شہر دالبندین اور چاغی شہر میں بھی کرفیو نافذ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔
ادھر گزشتہ روز ضلع بارکھان میں پولیس کے ایک ڈی ایس پی کو قتل کر دیا گیا جبکہ کیچ اور خضدار سے مجموعی طور پر 11 افراد کے اغوا کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات کے بعد صوبے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
نوٹ: دالبندین اور چاغی میں کرفیو کے نفاذ کی خبر فی الحال غیر سرکاری اطلاعات پر مبنی ہے۔ سرکاری اعلان جاری ہونے تک اسے حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔